ایران جنگ کے پہلے 6 دن ، ایران کے حملےجاری، تیل قیمتوں میں اضافہ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کی صورت حال کی تازہ ترین تفصیلات
ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
ایران کی جنگ کا ایک انوکھا حل پیش
اسرائیلی فوج نے ایران میں صدارتی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر پر متعدد بم گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ نے ایرانی حکومت کی قیادت کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک عسکری تربیت گاہ اور ’حکومت کے دیگر انفراسٹرکچر‘ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
تل ابیب : اسرائیلی فوج نے لبنان کے متعدد شہروں اور قصبوں کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے متعدد قصبوں اور شہروں کی ایک فہرست جاری کی اور رہائشیوں کا کہا کہ: ’ہم آپ کو کہتے ہیں کہ یہاں واپس نہ آئیں۔‘
اسرائیلی فوج کے اس پیغام میں ان علاقوں کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر خالی کریں اور فہرست میں درج مقامات سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ جو لوگ حزب اللہ کے ’عناصر اور مراکز‘ کے قریب ہوں گے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں 80 سے زیادہ دیہات اور قصبے موجود ہیں، جن میں البیاضہ، المنصوری اور یتر بھی شامل ہیں۔
Tuesday, 3 March 2026 – 16:19 #
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ پیشگی دفاع کے طور پر کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسرائیل کارروائی کرنے والا ہے اور اس کے بعد ایران امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو پہلے سے علم تھا کہ Israel ایران کے خلاف کارروائی کرنے والا ہے، اور اس کے نتیجے میں Iran کی جانب سے امریکی افواج پر حملوں کا خدشہ تھا۔
ان کا کہنا تھا، “ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیلی کارروائی ہوگی اور اس کے بعد امریکی افواج پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اگر ہم پیشگی اقدام نہ کرتے تو ہمیں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا، حتیٰ کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی زیادہ ہوسکتی تھی۔”
روبیو نے مزید کہا کہ وہ امریکی فوجی حکمت عملی کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے، تاہم ان کے بقول “امریکی فوج کی جانب سے مزید سخت حملے ابھی باقی ہیں۔”
ایران میں ہلال احمر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 787 افراد اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اب تک 504 مقامات پر 1,039 حملے کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے گولہ بارود اور اسلحہ کے ذخائر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور وافر ہیں، اور ملک طویل عرصے تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کیخلاف کارروائی کو پہلے چند میں نمٹانے کی بات کی تھی، پھر کہا کہ جنگ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور اب ان کی طرف سے لامحدود مدت تک جنگ کی بات کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں آج بریفنگ دی گئی جس کے مطابق امریکا کے پاس درمیانے اور اعلیٰ درمیانے درجے کے ہتھیاروں کی “عملاً لامحدود” فراہمی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف انہی ذخائر کی مدد سے جنگیں “ہمیشہ” اور کامیابی سے لڑی جا سکتی ہیں، اور یہ ہتھیار دیگر ممالک کے بہترین اسلحہ سے بھی بہتر ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انتہائی اعلیٰ درجے کے ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی مناسب سطح پر موجود ہے، تاہم یہ مطلوبہ حد تک نہیں پہنچا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اضافی اعلیٰ معیار کا اسلحہ بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر بھی رکھا گیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے یوکرین کو “سینکڑوں ارب ڈالر” مالیت کا جدید اسلحہ فراہم کیا، مگر اس کی جگہ نیا اسلحہ حاصل کرنے پر توجہ نہیں دی۔ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اعلیٰ درجے کا اسلحہ مفت فراہم کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں امریکی فوج کو دوبارہ مضبوط بنایا اور یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا “مکمل طور پر تیار” ہے اور کسی بھی ممکنہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کو اسلام سے جوڑ دیا ہے۔ ایران پر حملے کے حوالے سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امریکی وزیر جنگ جن کا عہدہ ٹرمپ سے پہلے وزیر دفاع کا کہلا تھا، نے ٹرمپ کے اقدام کا دفاع کیا۔
آپ محفوظ ہیں، ہماری مدد کرنے کا شکریہ
طیارے گرنے کے بعد امریکی پائلٹ سے کویتی باشندے کی گفتگو pic.twitter.com/Mlwa8AGxum
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) March 3, 2026
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج اس وقت تہران اور بیروت میں فوجی اہداف کے خلاف بیک وقت ٹارگٹڈ حملے کر رہی ہے۔‘
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور گوداموں پر حملہ کر رہے ہیں۔
صیہونیت انسانیت کے لئے خطرہ ھے۔ فلسطین کی سرزمین پہ اسرائیل کے قائم ھونے سے لیکر آجتک اسلامی دنیا پہ جو بھی قیامتیں ٹوٹیں جو بھی جنگیں مسلط ھوئیں انکے پیچھے صیہونی سوچ اور ریاست بالواسطہ یا بلا واسط کار فرما نظر آئیگی ۔ دنیا کے معاشی نظام پہ صیہونیت کا ایک صدی سے قبضہ ھے۔ بڑی…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 3, 2026
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں ایک ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فضائی اڈہ تباہ ہو گیا ہے۔
پاسدران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں راکٹس کو دور دراز کے اہداف پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاسدران انقلاب کے ڈرون اور میزائل حملے میں بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں امریکی کمانڈ اور وہاں کام کرنے والے عملے کو نقصان پہنچا۔
امریکہ نے ابھی تک ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس سے قبل بحرین میں امریکہ کے زیر انتظام بحری اڈے سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا تھا۔ تاہم ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

برینٹ کام تیل79ڈبلیو ٹی آئی 72ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
عالمی گیس کی قیمت 3ڈالر ٹی ایم ایم بی ٹیو یو کی سطح پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورت حال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا۔
امریکی صحافی نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے اندر فوجیں اتارنے کی ضرورت پیش آئے گی۔
اس سے قبل آج صبح سعودی دارلحکومت ریاض میں دو ڈرون ٹکرانے سے امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی تھی۔دھماکے کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر اسرائیلی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے وہ مہینوں کے اندر اندر اس قابل ہو جاتا کہ اسے روکنا ناممکن ہو جاتا۔
جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملوں کے باوجود نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجیوں اور تکنیکی ماہرین نے ’زیر زمین بنکرز‘ سمیت نئی تنصیبات بنانا شروع کیں، جہاں وہ بیلسٹک میزائل اور ایٹم بم تیار کر سکتے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’اگر اب کوئی ایکشن نہ لیا جاتا تو مستقبل میں کوئی ایکشن نہ لیا جا سکتا۔

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کا کہنا ہے کہ امریکہ برسوں سے رہنے والے کسی ایسے تنازعے میں داخل نہیں ہو گا ۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر کا ایک واضح مقصد ہے اور وہ یہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار موجود نہ ہوں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر صرف اپنے دور ملازمت کے پہلے تین چار سال میں ملک کو ایران کے جوہری ہتھیاروں سے محفوظ نہیں رکھنا چاہتے بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہ ہوں اور اس کے لیے بنیادی طور پر ایرانی حکومت کی ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت ہو گی۔
BREAKING: 2 Iranian drones have struck the U.S. Embassy in Riyadh, Saudi Arabia.
Iran is trying to harm Americans and our allies anyway they can.
It’s only going to get worse. pic.twitter.com/iXnFOmOYcx
— Ed Krassenstein (@EdKrassen) March 3, 2026
اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ ایران کے ایک پرائمری اسکول پر امریکا اور اسرائیل کی مبینہ بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی مقام پر طلبہ کی ہلاکت اسکولوں کو حاصل قانونی تحفظ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والی بمباری میں 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت طلبہ کی بتائی جاتی ہے۔
یونیسکو نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مسلح تنازعات کے دوران تعلیمی اداروں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
UNESCO is deeply alarmed by the impact of the ongoing military escalation in the Middle East on educational institutions, students, and education personnel.
Initial reports indicate that an attack on a girls’ primary school in Minab, southern Iran, has resulted in the deaths of… pic.twitter.com/RGaqrUetFA
— UNESCO 🏛️ #Education #Sciences #Culture 🇺🇳 (@UNESCO) March 1, 2026
سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد بعد متعدد بین الاقوامی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
فضائی نگرانی کرنے والے ادارے Flightradar24 کے مطابق ابوظہبی جانے والی اتحاد کی دو پروازوں کو عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب موڑ دیا گیا۔ اسی طرح دبئی جانے والی Emirates کی ایک پرواز بظاہر واپس بھارت کے شہر ممبئی کی جانب لوٹتی دکھائی دی۔
ادارے کے مطابق ریاض کے شاہ فہد ایئرپورٹ جانے والی کئی پروازیں بھی فضا میں انتظار کی حالت میں رہیں یا اپنے روانگی کے مقام کی جانب واپس مڑ گئیں۔
Both Etihad flights diverted to Muscat. Emirates appears to be heading back to Mumbai.https://t.co/Kn5v0kLg1f https://t.co/MCW3nej3Mt pic.twitter.com/zJkcbpEcUE
— Flightradar24 (@flightradar24) March 3, 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ کی تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی کے دوران 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ’ ایک مقام جو ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران نشانہ بنی تھی سے دو فوجیوں کی باقیات برآمد کر لی ہیں جو پہلے لاپتہ تھے۔
اپ ڈیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا نے پیر کو تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوگئی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ’سنگین حفاظتی خطرات‘ کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔
یہ ہدایت ان شہریوں پر لاگو ہوتی ہے جو بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے خلاف جاری مہم کے ایک حصے کے طور پر، ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے ’تباہ‘ کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں فوج نے کہاکہ ’وہ کارروائیاں جو مرکزِی میڈیا اور پروپیگنڈا میں کی جارہی تھیں، انھیں پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا اور ان کی نگرانی بھی وہی کر رہے تھے۔
تہران: ایران نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور معاشی اہداف پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے حملے کیے،خلیجی ممالک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے لانچ کیے گئے دو ڈرونز نے نشانہ بنایا۔ ایک ڈرون نے مسیعید میں بجلی گھر کے واٹر ٹینک کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرا ڈرون راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک توانائی تنصیب پر گرا۔
وزارت کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ متعلقہ حکام نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں باضابطہ بیان بعد میں جاری کیا جائے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر اور وزیر اعظم کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیل نے ان مخصوص مقامات پر نقصان کی تردید کی ہے۔
کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے، جائے وقوعہ پر فائر فائٹرز اور ایمبولینسز بھی پہنچ گئیں۔
کویت میں واقع امریکی سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ سفارتخانے کی طرف نہ آئیں، گھروں کی نچلی منزل پر پناہ لیں، کھڑکیوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ سفارتخانے نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
اسی دوران بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دوحہ اور دبئی میں متعدد زور دار دھماکوں اور جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سنائی دیں۔
عراق کے خودمختار کرد خطے کے دارالحکومت اربیل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق عراقی فضائی دفاعی نظام نے اربیل انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی۔
دریں اثنا کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت سٹی کے قریب مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں ملبہ گرنے سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن فعال کرنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ منامہ کو ملانے والا شیخ خلیفہ بن سلمان پل عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
خطے میں جاری حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔
اسرائیلی حکام اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کے تازہ حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے:
یروشلم کے قریب واقع اس رہائشی علاقے میں ایک ایرانی میزائل براہ راست بم پناہ گاہ (Bomb Shelter) اور ایک عبادت گاہ پر گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
تل ابیب شہر کے وسطی علاقے میں میزائل لگنے سے ایک خاتون ہلاک اور 22 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک کثیر المنزلہ عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی۔
ابوظہبی ایئرپورٹ پر ڈرون گرنے سے ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔ دبئی کے مشہور Fairmont Hotel اور Burj Al Arab کے قریب بھی ڈرون ملبہ گرنے سے آگ لگ گئی اور 4 افراد زخمی ہوئے۔
مشرقی صوبے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت تیل کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کے قریب میزائل گرے، جبکہ کویت ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں 9 ملازمین زخمی ہوئے۔
خلیج عمان میں ایک آئل ٹینکر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کے تیسرے روز پیر کو ہر طرف میزائل چلا دیئے۔ اسرائیل تو نشانہ بنا ہی خطے کے ممالک میں بھی نقصانات ہوئے۔
کویت میں متعدد امریکی طیارے تباہ ہوگئے۔ امریکہ نے اپنے تین طیارے گرنے کی تصدیق کی اور دعوی کیا کہ یہ کویتی میزائل دفاع نے غلطی سے مار گرائے ہیں۔ کویت میں امریکی سفارتخانے سے دھواں اٹھتا بھی دکھائی دیا۔
سعودی عرب میں راس تنورہ ریفائنری پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے، آگ لگ گئی جس کے بعد ریفائنری عارضی طور پر بند کردی گئی۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی دھماکے ہوئے۔
جنگ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطی سے نکلنے کی ہدایت کردی ہے۔
امریکی وزیر جنگ اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران ایران میں حکومت کی تبدیلی یا رجیم چینج کے ارادوں سے دستبردار ہوتے دکھائی دیئے۔
جنگ کے دوسرے روز یعنی اتوار کی صبح ایران نے آیت اللہ خامنہ ای اور سینئر فوجی کمانڈروں کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔ ایران میں اس وقت عارضی طور پر انتظام تین رکنی کونسل چلا رہی ہے جس کے سربراہ علی رضا اعرافی ہیں۔ ایک اور اہم ایرانی رہنما علی لاریجانی نے پیر کے روز امریکہ سے مذاکرات کا امکان مسترد کردیا۔