نقطہ کی فروخت: ملک ریاض میڈیا ہاؤس کے مالک بننے میں کیوں ناکام رہے؟

دبئی میں مشکلات نے اہم کردار ادا کیا، نقطہ کی فنڈنگ روک دی تھی، کامران خان اب اے آر وائی پر دکھائی دیں گے

               
March 2, 2026 · امت خاص
نقطہ کے سربراہ کامران خان (بائیں) تھے جب کہ اس کی فنڈنگ ملک ریاض(دائیں) کی جانب سے فراہم کی جا رہی تھی

پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی طویل عرصے سے جاری میڈیا ہاؤس کے مالک بننے کی خواہش ایک بار پھر ادھوری رہتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ اے آر وائی گروپ کی جانب سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نقطہ کی خریداری کا معاہدہ تقریباً حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

معاہدے کی چند تفصیلات طے ہونا باقی ہیں، تاہم ڈیل مکمل ہونے کی صورت میں یہ پیش رفت ملک ریاض کی میڈیا کے شعبے میں براہ راست ملکیت کی ایک اور ناکام کوشش تصور کی جائے گی۔

نقطہ کا باقاعدہ آغاز نومبر 2024 میں دبئی سے کیا گیا تھا۔ اس پلیٹ فارم کی قیادت سینئر صحافی کامران خان کر رہے تھے، جبکہ مالی معاونت ملک ریاض کی جانب سے فراہم کی گئی۔ لانچ سے قبل ملک بھر کے بڑے میڈیا ہاؤسز سے صحافیوں کی بھرتی کی گئی اور بعض کو موجودہ تنخواہ سے دوگنا معاوضہ دینے کی پیشکش کی گئی۔

تاہم جلد ہی یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ اس پلیٹ فارم کے پس پردہ سرمایہ کار ملک ریاض ہیں، جس کے بعد بعض صحافیوں نے شمولیت سے گریز کیا۔

ذرائع کے مطابق ملک ریاض نے کچھ عرصہ قبل اس منصوبے کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اس دوران ان کے خلاف پاکستان میں کارروائیوں اور اربوں روپے کے جرمانوں کے باعث ان کے مالی مسائل میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں ان کے اثاثے ضبط کیے جانے کی خبروں کے بعد نقطہ کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک ریاض نے اس دوران دبئی میں قدم جمانے کی کوشش کی تاہم اطلاعات کے مطابق وہ ناکام رہے۔ ان کا مقابلہ سخت تھا جب کہ پاکستان میں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات نے بھی مسائل پیدا کیے۔ ذرائع کے مطابق یہ صورتحال نقطہ پر بھی اثر انداز ہوئی۔

نومبر 2025 میں کمپنی نے بجٹ کٹوتیوں کے باعث 37 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا، جن میں زیادہ تر رپورٹرز اور کیمرہ مین شامل تھے۔ بعد ازاں مزید برطرفیاں بھی کی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر تنخواہوں اور دبئی میں قائم ہیڈکوارٹر کے اخراجات نے ادارے کے مالی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔

ملک ریاض اس سے قبل بھی میڈیا ادارہ حاصل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ 2023 میں انہوں نے ایک بڑے میڈیا گروپ کی خریداری کے لیے مذاکرات کیے، تاہم یہ معاہدہ سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اس سے پہلے ایک اردو روزنامہ “روزنامہ جناح” کا اجرا بھی کیا گیا جو بعد میں بند ہو گیا، جبکہ ایک ٹی وی چینل شروع کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سے وابستہ شخصیات کی جانب سے میڈیا اداروں کے حصول کا رجحان حالیہ برسوں میں بڑھا ہے۔ مثال کے طور پر علیم خان نے سماء ٹی وی خریدی تھی۔ مبصرین کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد بیانیے پر اثرانداز ہونا بھی سمجھا جاتا ہے۔

نقطہ سے وابستہ صحافیوں کا کیا ہوگا

اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت کامران خان کو اے آر وائی پر پرائم ٹائم پروگرام دیا جا سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو نقطہ کی اصل کشش اے آر وائی میں منتقل ہو جائے گی اور پلیٹ فارم کو محدود یا ری برانڈ کیا جا سکتا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ نقطہ کو بطور علیحدہ برانڈ برقرار رکھا جائے گا یا اسے اے آر وائی کے موجودہ ڈھانچے میں ضم کر دیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بڑے اور منظم کارپوریٹ فریم ورک کے تحت اس پلیٹ فارم کو پہلے سال کے مقابلے میں زیادہ مالی نظم و ضبط کے ساتھ چلایا جائے گا۔

نقطہ سے وابستہ صحافی دوسرے اداروں کی نسبت تنخواہیں لیتے رہے ہیں لیکن ان کا مستقبل اب واضح نہیں۔ بقول ایک صحافی اے آر وائی میں ڈبل تنخواہ نہیں بلکہ ڈبل شفٹ ملتی ہے۔