اسلام آباد ایئرپورٹ پر توڑے گئے 42 آئی فون جو اب بھی چل رہے ہیں

صدر زرداری نے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دی

               
March 2, 2026 · اہم خبریں, کامرس
لیڈی عملے نے تلاشی لی تو خاتون کے جسم پر بندھے 23 آئی فون 15 پرومیکس برآمد ہوئے۔ فائل فوٹو

لیڈی عملے نے تلاشی لی تو خاتون کے جسم پر بندھے 23 آئی فون 15 پرومیکس برآمد ہوئے۔ فائل فوٹو

اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافر سے ضبط کیے گئے 42 آئی فون 14 پرو میکس کو مبینہ طور پر توڑنے کے معاملے پر صدرِ آصف علی زرداری نے کیس دوبارہ
وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کو بھیج دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ یہ تعین کیا جائے کہ کیا مذکورہ موبائل فون ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد درآمد کنندہ کے حوالے کیے جا سکتے تھے۔

درخواست گزار کے مطابق کسٹمز حکام نے 42 آئی فون 14 پرو میکس ضبط کرنے کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ضابطے کے تحت تلف کر دیا گیا ہے۔ تاہم درآمد کنندہ نے دعویٰ کیا کہ آئی کلاؤڈ ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ ڈیوائسز تاحال فعال ہیں اور بعض کو حال ہی میں بحال بھی کیا گیا، جس سے ممکنہ بدعنوانی یا غلط استعمال کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے مالی اور ساکھ کے نقصان کا دعویٰ کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، مکمل تحقیقات اور ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

ایف بی آر نے ایف ٹی او کے سابقہ حکم کے خلاف صدر کے سامنے نمائندگی دائر کی تھی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ 8 مئی 2024 کی سفارشات کے بعد حقائق جاننے کے لیے انکوائری کی جا چکی ہے اور اس کی رپورٹ 20 ستمبر 2024 کو ایف ٹی او کو جمع کرا دی گئی تھی۔

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر دوسری شکایت قابلِ سماعت نہیں، کیونکہ دستیاب قانونی راستوں میں نظرثانی یا صدر کو نمائندگی شامل تھی۔

محکمہ کسٹمز نے آئی کلاؤڈ لاگ اِن سے متعلق دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی کلاؤڈ اکاؤنٹس کسی مخصوص ڈیوائس تک محدود نہیں ہوتے اور مختلف آلات سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق تمام 42 آئی ایم ای آئی نمبرز کو Pakistan Telecommunication Authority (پی ٹی اے) کے ذریعے بلیک لسٹ کیا گیا اور ضبطی، ریکارڈنگ، منتقلی اور تلفی کا تمام عمل قانون کے مطابق مکمل کیا گیا۔

صدر کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درآمد کنندہ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ موبائل فون اس وقت ضبط کیے گئے جب درآمد کنندہ تمام قابلِ اطلاق ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار تھا۔ مزید یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز نے ڈیوٹی کی ادائیگی سے مشروط کلیئرنس کا موافق حکم جاری کیا تھا۔

صدر نے قرار دیا کہ معاملہ میرٹ پر فیصلے کا متقاضی ہے۔ ایف ٹی او کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ آیا متعلقہ موبائل فون قانونی طور پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد کلیئر کیے جا سکتے تھے یا نہیں۔ ساتھ ہی فونز کی مبینہ تلفی کے دعوے کا بھی جائزہ لیا جائے۔

ایف ٹی او کو صدر کے حکم کی وصولی کے ایک ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ کیس اب اس سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ آیا 40 سے زائد قیمتی آئی فونز کو توڑنا یا تلف کرنا ناگزیر تھا، یا انہیں قانونی تقاضے پورے ہونے پر مسافروں یا درآمد کنندہ کے حوالے کیا جا سکتا تھا