مجتبیٰ خامنہ ای یا علی لاریجانی، ایران کا نیا لیڈر کون ہوگا؟
لیڈر کا انتخاب 1979 کے بعد سے اب تک صرف ایک بار انجام دیاگیا
لاریجانی ، مجتبیٰ
نئے ایرانی رہبراعلیٰ کے انتخاب میں 2 شخصیات نمایاں ہیں۔
لیڈر کا انتخاب ایک ایسا کام ہے جو 1979 کے بعد سے اسمبلی آف ایکسپرٹس ( (مجلسِ خبرگانِ رہبری) )نے صرف ایک بار انجام دیا ، تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات پر خامنہ ای کو منتخب کیا گیا تھا۔
تجربہ کار سیاستدان علی لاریجانی، جنہوں نے اتوار کو سپریم لیڈر کی فضائی حملے میں موت کے بعد عبوری قیادت کی کونسل تشکیل دی، گزشتہ سال سیکیورٹی ڈھانچے کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک بن کر دوبارہ ابھرے تھے۔ لاریجانی، 20 سال قبل بھی ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ رہے، گزشتہ سال اسرائیل سے 12 روزہ جنگ کے بعد پھر اس عہدے پر فائز ہوئے اور باضابطہ طور پر ایران کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مرکز میں واپس آئے۔وہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے سابق رکن بھی ہیں۔
جوہری مذاکرات سے لے کر تہران کے علاقائی تعلقات اور اندرونی صورت حال کے وسیع معاملات سنبھالتے رہے ہیں۔ نظام کے وفادار اور ملک کے ایک اہم علمی خاندان سے تعلق رکھنے والے لاریجانی ایران کی امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے –
لاریجانی نے اپنے پورے کیریئر میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا ہے، وہ خامنہ ای کے ساتھ وفاداری کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی خامنہ ای کے قابلِ اعتماد حکمت عملی ساز کی حیثیت گزشتہ ماہ اس وقت نمایاں ہوئی جب انہوں نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات کی تیاری کے لیے ثالث ملک عمان کا دورہ کیا۔لاریجانی نے حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی تعلقات پر بات چیت کے لیے کلیدی اتحادی ماسکو کے بھی کئی دورے کیے، جو ان کی اعلیٰ سطح کی سفارت کاری میں واپسی کی علامت ہے۔لاریجانی نے ان دوروں میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں چین کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کا کام بھی سونپا گیا تھا جس کے نتیجے میں 2021 میں 25 سالہ تعاون کا معاہدہ طے پایا۔
واشنگٹن نے ان پر جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کی ہدایت دینے کے الزام پر پابندیاں عائد کی تھیں۔امریکی حکومت کے مطابق لاریجانی ان کوششوں میں پیش پیش تھے جن کا مقصد ایران بھر میں مظاہروں کو کچلنا تھا۔ دیگر ایرانی حکام کی طرح لاریجانی نے بھی معاشی بدحالی کے خلاف مظاہروں پر ہمدردی کا اظہار کیا، لیکن ان مسلح کارروائیوں کی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کے جانی دشمن اسرائیل کی طرف سے کرائی گئی تھیں۔ 10 جنوری کو سرکاری میڈیا نے ان کا یہ بیان نقل کیا کہ عوامی احتجاج کو ان دہشت گرد نما گروہوں سے مکمل طور پر الگ کیا جانا چاہیے، 26 جنوری کو انہوں نے فسادیوں کو شہری نیم دہشت گرد گروہ قرار دیا۔
لاریجانی نے 2005 سے 2007 تک چیف ایٹمی مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کا دفاع کیا۔ انہوں نے ایک بار ایٹمی ایندھن کی پیداوار چھوڑنے کے لیے یورپی مراعات کو ایک موتی کے بدلے ٹافی لینےسے تشبیہ دی تھی۔ اس وقت ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے مغرب کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں ایک حقیقت پسند سیاستدان سمجھا جاتا تھا۔لاریجانی 2008 سے 2020 تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔ ان کے دورِ صدارت میں ایران نے 2015 میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا۔
انہوں نے 2005 میں صدارتی انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 2021 اور 2024 میں بھی کوشش کی لیکن گارڈین کونسل نے طرزِ زندگی کے معیار اور بیرون ملک خاندانی تعلقات جیسے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا۔
لاریجانی نے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔
خامنائی کے دوسرے بیٹے، مجتبیٰ،نمایاں اثر و رسوخ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے ملکی سیکیورٹی فورسزسے مضبوط روابط ہیں۔ لیکن شیعہ مذہبی حلقوں اور خاص طور پر بعدازانقلاب ایران میں، باپ سے بیٹے کو اقتدار کی منتقلی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایک ر کاوٹ یہ ہے کہ مجتبیٰ اعلیٰ درجے کے عالم نہیں اور حکومت میں ان کا کوئی باضابطہ عہدہ نہیں ۔
کم معروف شخصیت آیت اللہ علی رضا اعرافی ایک منجھے ہوئے عالم ہیں جن کا حکومتی اداروں میں کام کرنے کا تجربہ ہے اور وہ خامنہ ای کے معتمد بھی رہے ہیں۔ وہ اس وقت اسمبلی آف ایکسپرٹس کے نائب چیئرمین ہیں اور طاقتور گارڈین کونسل کے رکن بھی رہے ہیں، جو انتخابی امیدواروں اور پارلیمنٹ سے منظورقوانین کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ وہ ایران میں مدرسہ سسٹم کے سربراہ بھی ہیں۔ مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے ایلکس واٹانکا کے مطابق، اعرافی کو حساس عہدوں پر تعینات کرنا
ظاہر کرتا ہے کہ خامنہ ای کو ان کی انتظامی صلاحیتوں پر بڑا بھروسہ تھا۔ تاہم، وہ سیاسی طور پرکوئی بہت بااثر شخصیت نہیں سمجھے جاتے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں، عربی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور 24 کتابوں و مضامین کے مصنف ہیں۔
انقلاب ایران کے بانی امام خمینی کے پوتے حسن خمینی، ایک اور ممکنہ امیدوار ہوسکتے ہیںلیکن انہوں نے کوئی عوامی عہدہ نہیں سنبھالا اورملکی سیکیورٹی ڈھانچے یا حکمران اشرافیہ میں ان کا اثر و رسوخ کم نظر آتا ہے