محمود خان اچکزئی کا پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس، امریکہ و اسرائیل کے خلاف قرارداد کا مطالبہ

آج ہم اپنے ہمسائے پر ہونے والے حملے پر خاموش رہے تو کل جب ہم پر حملہ ہوگا تو کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے گا ، محمود خان اچکزئی

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ختم نہ کیا جائے بلکہ عسکری قیادت ایوان کو موجودہ علاقائی کشیدگی پر ان کیمرہ بریفنگ دے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوس میں ایک “ناجائز اور خطرناک جنگ” چھڑ چکی ہے اور پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کی پالیسی واضح نہیں۔

انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت تمام ذمہ دار حکام پارلیمنٹ کو افغانستان کی صورتحال اور ایران پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بریفنگ دیں تاکہ اجتماعی طور پر ان حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اچکزئی نے ایران پر ہونے والے حملوں کو “دہشت گردانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد ریاست پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے روس اور چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے، جبکہ پاکستان خاموش ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کو ایک متفقہ قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں طاقت کے بل بوتے پر آزاد ملکوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور حملے کرنے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ اگر آج ہم اپنے ہمسائے پر ہونے والے حملے پر خاموش رہے تو کل جب ہم پر حملہ ہوگا تو کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔