Missile cities پر قائم ایرانی حکمت عملی۔کیا امریکہ نے جنگ سمیٹنے کا فیصلہ کرلیا؟
سپریم لیڈر کی موت کے بعد حقیقت یہ ہے کہ حکومت ضرور بدل گئی ہے۔امریکی وزیردفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود امریکہ کا مقصد نظام کی تبدیلی نہیں اور نہ امریکہ خطے میں ماضی جیسی طویل جنگوں میں الجھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ہیگستھ نے یہ بات امریکہ کے ایئر فورس جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، کی موجودگی میں کہی۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ یہ عراق نہیں،یہ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں ۔ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ امریکی وزیر دفاع کی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس تھی۔
ہیگستھ نے بظاہر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران میں ملکی قیادت کی تبدیلی کے پہلے دیے گئے بیانات سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی مشن صرف ایک ہے، واضح، تباہ کن اور فیصلہ کن مشن، ایران سے میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، کوئی نیشن بلڈنگ نہیں ہوگی، نہ کوئی جمہوریت سازی کا تجربہ۔ ان کا بالواسطہ اشارہ امریکہ کی افغانستان اور عراق میں جنگوں کی طرف تھا۔
اگرچہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ نظام کی تبدیلی امریکی مقصد نہیں ، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد حقیقت یہ ہے کہ حکومت ضرور بدل گئی ہے۔ادھرجرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفیہول نے اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ برلن براہ راست ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔جرمن براڈکاسٹر ڈوئچ لینڈ فنک سے بات کرتے ہوئے واڈیفیہول نے کہا، جرمن حکومت کا اس جنگ میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
برطانوی اخبارڈیلی ٹیلی گراف کو ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سے بہت مایوس ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ کو ایران پر حملے کرنے کے لیے ڈیگو گارشیا کے فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔
برطانیہ نے ابتدا میں امریکہ کو اپنے اڈوں سے فضائی حملے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، تاہم اتوار کی شام اسٹارمر نے کہا کہ وہ ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی دفاعی کارروائی کے لیے امریکہ کی جانب سے اڈوں کے استعمال کی درخواست قبول کر رہے ہیں۔
جنگی ماہرین اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایران کی موجودہ فوجی حکمتِ عملی کوبہتربنیادوں پر استوار قراردیاہے۔اس کا مقصدشدید دبا ئوسے بچنا، اپنی بنیادی صلاحیتوں کو بحال کرنا،میزائلوں، ڈرونز اور پراکسیز کے ذریعے نپے تلے غیر متناسب پھیلائو سے ڈیٹرنس دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ یہ فوجی حکمتِ عملی سب سے پہلے غیر متناسب برداشت پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جس کا مقصد” میزائل شہروں”(Missile cities) کو مضبوط بنانا، کمانڈ کے ڈھانچے کو منتشر کرنا، اور تمام حملوں کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے ابتدائی نقصان کو قبول کرنا ہے تاکہ جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت (second-strike capability) کو محفوظ رکھا جا سکے۔
میزائل شہر وہ دفاعی ڈھانچہ ہیں جنہیں ایران اپنے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو کسی بھی فضائی حملے سے بچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دشمن کے دفاعی نظام کو اپنی تعداد اور شدت سے مفلوج کردینے اور پراکسی جنگ بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ایران بیلسٹک میزائلوں کے بڑے ذخیرے اور مخصوص ڈرونزکے ساتھ ساتھ حزب اللہ اور مشرق وسطی میں موجود دیگر اتحادی ملیشیائوں کے اقدامات کو استعمال کر رہا ہے تاکہ اسرائیل اور امریکہ کے میزائل دفاعی نظام کو الجھایا جا سکے اور پورے خطے سے بھاری قیمت وصول کی جا سکے۔
ایران نے اپنی فوجی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے تاکہ جنگ کے عالمی معاشی اثرات کو بڑھایا جا سکے اور مغربی و خلیجی حکومتوں پر دبا ئوڈالا جا سکے۔ عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریبا 20 سے 30 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس اہم بحری راستے میں عدم استحکام دنیا بھر میں معاشی استحکام کو متزلزل کر سکتا ہے۔ اب تک ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے کو بند نہیں کیا لیکن اتوار کے شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم 150 ٹینکرز، جن میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے جہاز شامل ہیں، آبنائے سے پرے کھلے خلیجی پانیوں میں لنگر انداز ہو چکے تھے۔
پچھلے سال جون میں، ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔یہ جنگ 13 جون 2025 کوشروع ہوئی ج تھی جب اسرائیل نے ایرانی فوجی اور ایٹمی مقامات پر فضائی حملے کیے، جس میں اہم ایٹمی سائنسدان اور فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے۔ تب سے تہران نے اپنے فوجی نظریے کو بنیادی طور پر دفاعی روک تھام (containment)سے تبدیل کر کے واضح طور پر جارحانہ غیر متناسب موقف میں بدل دیا ہے۔
جون 2025 کی جنگ نے بڑے پیمانے پربالواسطہ یا پراکسی پر مبنی محاذ آرائی کو ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست اور شدید ٹکرائومیں تبدیل کیا، جس میں امریکہ بھی شامل تھا۔
جون 2025 کے مقابلے میں، ایران آج زیادہ جارحانہ نظر آتا ہے، وہ باضابطہ طور پر علاقائی میزائلوں، ڈرونز، سائبر حملوں اور توانائی پروار (جب توانائی کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا کاٹ دیا جاتا ہے)کے وسیع استعمال کو اپنا رہا ہے، لیکن جنگی نقصانات، پابندیوں اور اندرونی عدم استحکام کی وجہ سے آپریشنل طور پر محدود ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران گزشتہ سال جون سے زیادہ خطرہ مول لینے والا اور اشتعال انگیز ہو گیا ہے لیکن کمزور صلاحیتیں اور حکومت کے خاتمے کی مہم شروع ہونے کا خوف اسے مستقل تیز شدت والی جنگ کے بجائے نپے تلے اور وقتا فوقتا جارحانہ اقدامات پر مجبورکرتا ہے۔دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ نئی حکمتِ عملی کارگر ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔
ایک فوجی ماہر اور سابق اہلکار نے کہاکہ ایران کے پاس ایک مضبوط فوج ہے، لیکن فی الحال زمین پر کچھ نہیں ، اور یہ ایک فضائی جنگ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران اپنے فضائی دفاع کے لحاظ سے نقصان دہ پوزیشن میں ہے۔ تہران نے اپنے فضائی میزائلوں کے ذخیرے میں اضافہ کیا ہے، لیکن صرف وقت ہی بتائے گا کہ کیا وہ اپنا دفاع برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
دفاعی ماہرین ایران کو”زخمی جانور” کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ محدود ڈیٹرنس کی اصطلاح میں تہران کی فوجی حکمتِ عملی اس حد تک کام کر رہی ہے کہ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ 2025 کے حملوں کے بعد بھی بامعنی میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے اسرائیل اور امریکہ کو ایک صاف اور یک طرفہ غیر مسلح کرنے کی مہم کے بجائے ایک طویل اور وسائل سے بھرپور دفاعی و جارحانہ مہم پر مجبور کر دیا ہے۔
اگرچہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تین دن سے فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ تنازع کب تک جاری رہے گا۔ فوجی طور پر ایران ممکنہ طور پربرسوں تک وقفے وقفے سے میزائل، ڈرون، پراکسی اور سائبر آپریشنز جاری رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ نظام نسبتاً سستے ہیں اور پابندیوں کے باوجود منتشر اور محفوظ تنصیبات سے تیار اور نصب کیے جا سکتے ہیں۔تاہم، سیاسی اور معاشی طور پر طویل المدتی شدید تنازع، جس میں بار بار بڑے امریکی اور اسرائیلی حملے ہوں، شدید معاشی گراوٹ، اندرونی بے چینی اور حکومتی جواز کے مزید خاتمے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
ایران پر حملہ کرنے کے بعد، ٹرمپ اس بارے میں غیر واضح رہے ہیں کہ یہ تنازع کب تک چل سکتا ہے۔یکم مارچ کو انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جنگ چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکہ کسی اور کو نشانہ بنانے کا نہیں سوچ رہا۔ انہوں نے دی اٹلانٹک میگزین کو یہ بھی بتایا کہ ایران کی نئی قیادت نے ان سے بات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو جاری تنازع کے ممکنہ خاتمے کا اشارہ ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد اپنی پہلی براہِ راست تقریر کے دوران دیکھ کر پڑھا، برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ سکرپٹ پر قائم رہنا ضروری ہے۔جب انھوں نے اس جنگ کے مقاصد بیان کیے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو ختم کرنا، ایران کی بحریہ کو نیست و نابود کرنا، حکومت کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور دہشت گردوں کی سرپرستی ختم کرنا۔۔۔ تو انھوں نے ایرانی عوام سے حکومت گرانے کی اپیل کو دوبارہ نہیں دہرایا۔رجیم چینج کا کوئی ذکر نہیں تھا۔صدر نے کہا کہ جنگ کے چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ لیکن یہ اتنا وقت لے گی جتنا ضروری ہوگا۔
یونیورسٹی آف یارک میں شعبہ سیاست کے ایسوسی ایٹ لیکچرر کرسٹوفر فیدر اسٹون نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی مذمت اور داخلی مخالفت ایک محدود کرنے والا عنصر بن سکتی ہے۔امریکہ خطے میں اثاثوں کی تعیناتی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن حملوں میں کسی بھی اضافے کے لیے ایک بڑی سیاسی کوشش اور اہم وسائل کی ضرورت ہوگی۔ ٹرمپ نے اپنے ملک پر توجہ دینے والے’صدر کے طور پر مہم چلائی تھی، لیکن وہ بیرون ملک تیزی سے جارحانہ ہو رہے ہیں۔ تاہم، وہ اب بھی طویل غیر ملکی مداخلت سے محتاط ہیں۔
ایران اسرائیل محاذجنگ واشنگٹن کی قومی دفاعی حکمتِ عملی کو مشرق وسطی کے ایک اور کھلے ہوئے تنازع کے لیے عوامی آمادگی کی کمی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت کا امتحان لے رہا ہے۔ لہذا امریکہ کا مقصد ایک غیر معینہ مدت کی شدید جنگ کے بجائے ایک محدود، ڈیٹرنس پر مبنی مہم ہوگی۔
۔