افغان طالبان کے16مقامات پر زمینی حملے ،سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں

کارروائیوں کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع

               
March 3, 2026 · اہم خبریں

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق شمالی بلوچستان کے اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں متعدد مقامات پر حملوں کی کوشش کی گئی جنہیں مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائیوں کے دوران 27 کارندے ہلاک  اور زخمی ہوئے، جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں بھی مختلف مقامات پر فائرنگ اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق جاری آپریشن کے دوران فالو اپ کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں اور صورتحال کی مکمل تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں زمینی اور فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنانا ہے۔

تاحال ان دعوؤں پر افغان طالبان کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ برقرار ہے۔