سوات: بے نظیر انکم سپورٹ سے فائدہ اٹھانے والے 820 اہلکار شکنجے میں، ماضی کا ریلیف عذاب بن گیا

محکمہ خزانہ نے فروری کی تنخواہوں سے 17 ہزار روپے تک کی بھاری کٹوتی شروع کر دی۔

               
March 3, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سوات: سوات پولیس کے سابق اسپیشل پولیس فورس (موجودہ ریگولر پولیس) کے 820 اہلکاروں کے لیے معاشی مشکلات کا نیا طوفان کھڑا ہو گیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت لی گئی15کروڑ روپے کی رقوم کی واپسی کے لیے محکمہ خزانہ نے فروری کی تنخواہوں سے 17 ہزار روپے تک کی بھاری کٹوتی شروع کر دی ہے، جس نے متاثرہ ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009 میں کمیونٹی پولیسنگ کے تحت بھرتی ہونے والے ان اہلکاروں نے قیامِ امن کے بعد اپنی بیگمات کی رجسٹریشن کرا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی معاونت حاصل کی تھی۔ اس وقت ان اہلکاروں کی ماہانہ تنخواہ کنٹریکٹ بنیادوں پر 10 ہزار روپے تھی، جو 2014 میں بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دی گئی جبکہ 2020 میں اس فورس کو ریگولر پولیس میں ضم کرتے ہوئے پہلے اسکیل 5 اور بعد ازاں اسکیل 7 دیا گیا۔

محکمہ خزانہ کی جانب سے اب ان تمام اہلکاروں سے، جن کی بیگمات نے کسی بھی وقت پروگرام سے فائدہ اٹھایا، رقوم کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر ان پر 14 کروڑ 97 لاکھ 64 ہزار روپے واجب الادا ہیں، جبکہ کٹوتیوں کا سلسلہ مئی 2027 تک جاری رہے گا۔

متاثرہ پولیس اہلکاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی موجودہ تنخواہ تقریباً 50 ہزار روپے ہے، جس میں سے 17 ہزار روپے کی کٹوتی ان کے گھر کا چولہا بجھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ:

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کے پیش نظر ان بھاری کٹوتیوں پر نظرثانی کی جائے۔کٹوتی کی ماہانہ شرح کو کم کیا جائے تاکہ غریب سرکاری ملازمین پر معاشی بوجھ کم ہو سکے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ قیامِ امن کے لیے جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی دینے والے ان جوانوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔