ٹرمپ، مودی اور نیتن یاہو کو ڈاکس تھانے بلوائیں ، وکیل عدالت پہنچ گیا
پراسکیوشن، ایس ایس پی کمپلین سیل کیماڑی اور ایس ایچ او ڈاکس کو نوٹس جاری ۔ ساتھ ہی پانچ مارچ تک جواب بھی طلب
فائل فوٹو
کراچی کی ایک مقامی عدالت میں ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں تو نہیں، مگر سوشل میڈیا اور مقامی قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایک مقامی وکیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر آج کراچی کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی۔
درخواست میں ان ملزموں کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کی گئی، اور عدالت نے بھی معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پراسکیوشن، ایس ایس پی کمپلین سیل کیماڑی اور ایس ایچ او ڈاکس کو نوٹس جاری کر دیے۔ ساتھ ہی پانچ مارچ تک جواب بھی طلب کر لیا۔
یوں لگتا ہے کہ اب وائٹ ہاؤس، تل ابیب اور نئی دہلی کے ایوانوں میں بھی شاید “ڈاکس تھانے” کا نام گونجے گا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (غربی) کی عدالت میں وکیل جمشید علی خواجہ نے درخواست دائر کی ہے، جس کے مندرجات کسی بین الاقوامی تھرلر فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ درخواست گزار کے مطابق الزام ہے کہ 16 اور 25 فروری کو نریندر مودی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر 300 سے زائد حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای (مبینہ طور پر) شہید ہو گئے ہیں۔
وکیل کا موقف ہے کہ ان عالمی حملوں اور دھمکیوں کی وجہ سے انہیں اور لاکھوں مسلمانوں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ اس ‘عالمی سازش’ کی ایف آئی آر درج کرانے تھانہ ڈاکس پہنچے تو پولیس نے عالمی لیڈرز کے خلاف پرچہ کاٹنے سے صاف انکار کر دیا۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ ایس ایچ او ڈاکس کو حکم دیا جائے کہ وہ میرا بیان ریکارڈ کریں اور ان طاقتور عالمی شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کریں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کراچی پولیس ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کو تھانہ ڈاکس طلب کرتی ہے یا یہ درخواست قانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو جاتی ہے۔