ماسکومیں کراٹے ٹورنامنٹ کی پاکستانی ٹیم کا انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال کا انکشاف
ایف آئی اے نے چھان بین شروع کردی۔ مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر
ایف آئی اے پشاور زون کے اینٹی ہیومن ٹریفککنگ سرکل کو پاکستان کیوکوشن کان کراٹے ٹیم کے حالیہ دورۂ ماسکو روس کے حوالے سے ایک شکایت موصول ہوئی ہے، جس میں مبینہ طور پر ٹیم میں تارکین وطن کو شامل کرنے اور روس سے غیر قانونی طور پر یورپ فرار ہونے کی کوششوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔اس ٹیم میں شامل تمام کوچز اور دیگر ممبران کا تعلق لنڈی کوتل ضلع خیبر سے ہے،ذرائع کے مطابق 28 فروری سے 2 مارچ تک ماسکو میںنیشن کپ کراٹے ٹورنامنٹ کو مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایف آئی اے پشاور زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر رانا شاہد حبیب نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موصولہ شکایت کی روشنی میں ماسکو ایونٹ میں شرکت کرنے والے کیوکوشن کان کراٹے ٹیم کے تمام عہدیداران اور اراکین کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی مکمل فہرست کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور اگر کوئی فرد روس میں قیام کر کے یورپ فرار ہونے کی کوشش میں ملوث پایا گیا تو ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں مختلف کھیلوں کے نام پر انسانی اسمگلنگ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ایک معتبر ذریعہ کے مطابق بعض سرکاری و غیر سرکاری فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور ایجنٹس کی جانب سے بین الاقوامی ایونٹس کو مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں، جن کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ٹھوس ثبوت ملنے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ تمام ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے عمل کو شفاف بنائیں اور باقاعدہ پاکستان سپورٹس بورڈ سے این او سی حاصل کریں، تاکہ ٹیموں میں جعلی کھلاڑیوں کی شمولیت روکی جا سکے اور بیرون ملک غائب ہو کر ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل خیبر پختونخوا کے بعض اہلکاروں کے بھی اس قسم کی سرگرمیوں میں ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔
ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران فٹبال، فٹسال اور اسکواش سمیت دیگر کھیلوں کو بھی انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔