گولی لگنے کے بعد گرتے مجذوب ٹک ٹاکر کی آنکھوں میں حیرانی تھی
لوگ حیران ہیں کہ ہر کسی کو ہنسانے والے جاوید مہانڈری کو قتل کیوں کیا گیا؟
مجذوب ٹک ٹاکر
بالا کوٹ میں ہر کسی کو ہنسانے والے مجذوب ٹک ٹاکر کو پولیس اہلکار نے گولی کیوں ماری اور پھر خود ہی جا کر گرفتاری کیوں دے دی، وجہ سامنے آگئی۔
لوگ حیران ہیں کہ ہر کسی کو ہنسانے والے مجذوب ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کو قتل کیوں کیا گیا اور اس سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔۔یہی حیرانی گولی سینے میں لگنے کے بعد پیچھے کی جانب گرتے جاوید مہانڈری کی آنکھوں میں بھی نمایاں طور پر دیکھی گئی۔مگر تھوڑا سا غور کرنے پر اس سوال کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔
جاوید مہانڈری کو گزشتہ روز آبائی علاقے بالاکوٹ میں سپرد خاک کر دیا گیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ بالاکوٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور جو شریک نہیں ہو سکے وہ بھی اس کے قتل پر غمزدہ تھے۔
واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ بالاکوٹ تھانے سے ملحقہ ہوٹل کے سبزہ زار میں پانچ سے چھ دوستوں نے مل کر افطار کا پروگرام بنایا تھا۔ان میں پولیس کانسٹیبل شاہد اور جاوید مہانڈری دونوں شامل تھے جن میں سے بعد میں ایک قاتل اور دوسرا مقتول قرار پایا۔
سوشل میڈیا پر وائرل واقعے کی ویڈیو بتاتی ہے کہ جب پولیس اہلکار شاہد پارک میں پہنچا تو جاوید مہانڈری سمیت باقی دوست انتظار کر رہے تھے اور ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بھی بن رہی تھی۔جب پولیس اہلکار شاہد اپنے دوست کے ساتھ وہاں پہنچا تو جاوید مہانڈری نے اپنے مخصوص انداز میں مصنوعی خفگی کے ساتھ جملہ اچھالا کے اس ”ککڑ ”کو کہاں ساتھ لے آئے ہو۔
یہی وہ لمحہ تھا جب کانسٹیبل شاہد کی آنکھوں میں غصے اور رد عمل کی بجلی کوندی اور اس نے آنا” فانا” پسٹل نکال کر جاوید کے سینے پر رکھا اور ٹرائیگر دبا دیا۔یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ وہاں موجود کسی کو بھی یقین نہیں آیا اور ایسی آوازیں سنی جا سکتی ہیں کہ کیا واقعی اسے گولی لگی ہے؟ مقامی لوگوں کے مطابق جاوید مہانڈری کا یہ مخصوص انداز تھا کہ اگر کبھی کسی شخص سے اس کی تکرار ہو جاتی تو وہ بعد میں جب بھی اسے دیکھتا، اس پر بظاہر ناراضگی ظاہر کرتا۔ اس بات کو سب لوگ انجوائے کرتے، اور ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر دیتے۔اس کے لیے اہتمام کے ساتھ اسے اکسایا جاتا۔
جاوید کی ویڈیوز تو دھڑا دھڑ بنتی مگر اس کا اپنا کوئی سوشل میڈیا پیج نہیں تھا۔
بعض مقامی لوگوں سے امت ڈیجیٹل نے اس حوالے سے گفتگو کی تو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ قتل کا اصل سبب تو تحقیقات میں سامنے آئے گا مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جاوید مہانڈری کے ایک مزاحیہ یا طنزیہ جملے نے کانسٹیبل شاہد کو مشتعل کر دیا۔۔خاص طور پر اس لیے کہ یہ سب ریکارڈ ہو رہا تھا اور ویڈیو وائرل ہونے کے خوف میں مبتلا ہو کر شاہد نے گولی چلا دی، جس کی سمجھ وہاں موجود کسی شخص کو نہیں آئی اور واقعے کے چاروں عینی شاہد اب تک سکتے میں ہیں۔اگرچہ ملزم کی گرفتاری شدید عوامی رد عمل کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے، جس میں تھانے کو جلایا جانا بھی شامل ہے۔۔ تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل نے واقعے کے فوراً بعد اس پولیس چوکی میں جا کر گرفتاری دے دی تھی جہاں وہ ڈیوٹی کے لیے تعینات تھا۔
تو کیا جاوید کا قتل بھی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہونے کے نتیجے میں ممکنہ توہین کے خوف کا نتیجہ ہے۔اور کیا ان واقعات کی روک تھام کے لیے قانون یا سماج کی سطح پر کوئی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے؟