قرب قیامت کی آخری لڑائی-امریکی فوجیوں کو مذہب کے نام پر تیار کرنے کا انکشاف

کمانڈر نے اصرار کیا ہم اپنے دستوں کو بتائیں کہ یہ سب ''خدا ئی منصوبے''کا حصہ ہے

               
March 4, 2026 · امت خاص

آرماگیڈون

 

امریکی کمانڈروں نے فوجیوں کے لیے ایران جنگ میں شمولیت کا جواز پیش کرنے کے لیے بائبل اور انتہا پسند مسیحی بیان بازی کا سہارا لینا شروع کر دیا ۔واچ ڈاگ گروپ ملٹری ریلیجس فریڈم فانڈیشن (MRFF)کا کہنا ہے کہ اسے میرینز، ایئر فورس اور اسپیس فورس سمیت مسلح افواج کی تمام شاخوں کے سروس ممبران کی جانب سے 200 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

 

ایک شکایت کنندہ نان کمیشنڈ آفیسرنے بتایا کہ ان کے کمانڈر نے اصرار کیا کہ ہم اپنے دستوں کو بتائیں کہ یہ سب ”خدا ئی منصوبے”کا حصہ ہے۔ کمانڈر نے بک آف ریویلیشن'(Book of Revelation)کے متعدد حوالوں کا ذکر کیا جن میں ‘آرماگیڈون( بڑی جنگ ہرمجدون)اور حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کا ذکر ہے۔ این سی اونے مزید بتایا کہ کمانڈر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو عیسی نے ایران میں سگنل فائر روشن کرنے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ آرماگیڈون کا آغاز ہو سکے۔

 

یہ شکایت 15 فوجیوں کی جانب سے درج کرائی گئی تھی، جن میں 11مسیحی، ایک مسلمان اور ایک یہودی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی وزیر جنگ نے ایران پر حملے کو اسلام سے جوڑ دیا

 

واچ ڈاگ گروپ کے صدر مائیکی وائنسٹین نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ جب بھی اسرائیل یا امریکہ مشرق وسطی میں شامل ہوتے ہیں، تو ہمیں مسیحی قوم پرستوں کی ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں جنہوں نے حکومت اور امریکی فوج پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کا اعلی افسر کوئی عام مینیجر نہیں ہوتا۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹس فوج میں مسیحی انتہا پسندی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں کمانڈر اسے بائبل کے مطابق ایک جائزجنگ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی مسیحی قوم پرستی کی حمایت کے لیے جانا جاتا ہے۔اگست 2025 میں، ہیگستھ نے ایک پادری ڈوگ ولسن کے حوالے سے ایک کلپ شیئر کیا تھا جو خواتین کے فوج میں قیادت یا جنگی کردار سنبھالنے کے خلاف ہیں۔ ولسن کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور یہ پوری دنیا ایک مسیحی قوم اور دنیا’بن جائے۔

 

پینٹاگون نے ان شکایات پر تبصرہ کرنے کے بجائے پیٹ ہیگستھ کے ایران میں فوجی آپریشن سے متعلق عوامی بیانات شیئر کرنے پر اکتفا کیا۔