ایران پر امریکی واسرائیلی یلغار کے درمیان بھارت کی ڈبل گیم

اسرائیل کے ساتھ نئی دہلی کی اسٹریٹیجک شراکت داری،خلیجی ممالک میں بھی بڑا مفاد

               
March 4, 2026 · امت خاص

ایران ،بھارت

 

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سے بھڑکنے والی جنگ کی آگ میں ،نئی دہلی کہاں کھڑاہے ،اس موضوع کو صورت حال کے تناظرمیں نہایت اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس پر” امت ڈیجیٹل ” کے گروپ ایڈیٹر اور سینئر صحافی سجادعباسی نے خصوصی تجزیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ یلغار کے بعد ایران جل رہا ہے ،پورا مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر اوردنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اور یہ سب کچھ نام نہاد وشوا گرو کہلانے والے بھارت کے پڑوس میں ہو رہا ہے مگر وہ چپ سادھے ہوئے ہے ۔ مجرمانہ خاموشی ہے یا کوئی حکمت عملی ،یہ سوال آج ہر خاص وعام کی زبان پر ہے اور غور کیا جائے تو اس کا جواب کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں۔بظاہر اس کی دو تین بڑی وجوہات نظر آتی ہیں۔اول اسرائیل کے ساتھ بھارت کی اسٹریٹیجک شراکت داری ۔ دفاعی میدان میں بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا کسٹمر ہے۔ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سرویلینس نظام کی بات کی جائے ،یا آئرن بیم کی جو جدید لیزر ہتھیار ہیں ،ان کے حصول کا معایدہ بھی حال ہی میں ہوا ہے یعنی وہ آپس میں معاہدوں اور پرانے تعلق میں اس طرح سے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کا الگ ہونا بھارت کے لیے کم از کم ممکن نہیں مگر مشکل یہ ہے کہ دوسری طرف بھارت کا خلیجی ممالک میں بھی بہت بڑا مفاد موجود ہے ۔

 

سجادعباسی نے نشان دہی کی کہ سعودی عرب اور امارات کے ساتھ حال ہی میں بھارت کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں ۔خلیجی ملکوں میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد کی تعداد میں بھارتی ورک فورس کام کر رہی ہے اور زرمبادلہ کا بہت بڑا حصہ بھارتی تجوری میں بھررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے بڑے محتاط انداز میں خلیجی ممالک کی سالمیت پر زور دیا ہے جسے بالواسطہ طور پر ایران کے خلاف جھکائو تصور کیا جا رہا ہے ۔مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ بھارت ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کے نام پر اپنی انرجی اور امیگریشن کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے ۔یوں دیکھا جائے تو بھارت اس وقت ڈبل گیم کھیل رہا ہے یعنی ایک طرف وہ امن کے نام پر بالواسطہ طور پر اسرائیل کی مدد کر رہا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دوہزار چوبیس اور پچیس کی جنگوں میں بھارتی دفاعی کمپنیوں نے اسرائیل کو گولہ بارود اور راکٹ بڑی تعداد میں فراہم کیے تھے اور عین ممکن ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہو ۔دوسری طرح چاہ بہار پورٹ ایران کے راستے بھارت کو سنٹرل ایشیا تک رسائی دیتی ہے ۔اور یہ ایران میں بھارت کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ سمجھی جاتی ہے ،اس انویسٹمنٹ کو بچانے کے لیے بھارت پس پردہ ایران کے ساتھ رابطے میں ضرور ہے مگر اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر اسرائیل کو بھی مٹھی میں رکھنا چاہتا ہے ۔

 

سجادعباسی کے مطابق مختصراً کہہ سکتے ہیں کہ بھارت اس وقت ٹائٹ روپ واک میں مصروف ہے اور یہ واک اسے سفارتی میدان میں منہ کے بل گرانے کا بھی سبب بن سکتی ہے کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی جنگ کسی ملک کی دہلیز پر آ جائے تو اس کی خاموشی بہت مہنگا سودا ثابت ہوتی ہے ۔