ایرانی جہاز پر حملہ ، نئی دہلی کے لیے سفارتی سبکی اور سکیورٹی چیلنج
متاثرہ جہاز ان 18 غیر ملکی جنگی جہازوں میں شامل تھا جنہوں نے بھارتی بحریہ کے معزز مہمان کے طور پر مشقوں میں حصہ لیا تھا۔
فوٹو سوشل میڈیا
نئی دہلی: بھارت کی میزبانی میں ہونے والی کثیر الملکی بحری مشقوں ‘میلان 2026’ (MILAN-2026) میں شرکت کے بعد واپسی کے سفر پر روانہ ہونے والے ایک بحری جہاز پر امریکی حملے نے جنوبی ایشیا کی بحری سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
متاثرہ جہاز ان 18 غیر ملکی جنگی جہازوں میں شامل تھا جنہوں نے بھارتی بحریہ کے معزز مہمان کے طور پر مشقوں میں حصہ لیا تھا۔ سفارتی حلقوں میں اسے ‘بحری مہمان نوازی’ کے غیر تحریری ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کے اس اقدام نے بھارت کے قریبی سمندری پڑوس کو جنگی زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حملے نے بھارت کے اپنے ہی علاقے میں اس کی اتھارٹی اور خود مختاری پر مشکل سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کارروائی سے دیگر ممالک کی بحریہ کو یہ پیغام گیا ہے کہ بھارت کی میزبانی میں ہونے والی مشقوں میں شرکت، میزبان ملک کی حدود سے باہر نکلتے ہی ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا ‘مہا ساگر’ (MAHASAGAR) ویژن، جس کا مقصد بھارت کو بحر ہند میں ایک “ترجیحی سکیورٹی پارٹنر” کے طور پر منوانا ہے، اس واقعے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
یہ حملہ اس تصور کو زک پہنچاتا ہے کہ نئی دہلی خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ایک دور بیٹھی طاقت بھارت سے مشاورت کیے بغیر اس کے ‘بیک یارڈ’ میں مہلک طاقت کا استعمال کر سکتی ہے۔