آبنائے ہرمز کی بندش، پاکستان نے تیل کی فراہمی کا متبادل انتظام کر لیا
سعودی عرب نے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع بندرگاہ کے ذریعے تیل کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی کرا دی
ایران امریکہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان نے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کر لیے ہیں اور سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ خام تیل کی ترسیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کے ذریعے کی جائے۔
وزارتِ پیٹرولیم نے ایک بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس سے درآمدی معیشتوں میں ایندھن کی فراہمی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اور پاکستان کی زیادہ تر ایندھن درآمدات گزرتی ہیں۔
بیان کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات میں اس معاملے کو اٹھایا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سعودی حکام نے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع بندرگاہ کے ذریعے تیل کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت کے مطابق ایک بحری جہاز کا انتظام کر لیا گیا ہے جو ینبع جا کر پاکستان کے لیے خام تیل لادے گا۔ ریاض نے ہنگامی توانائی ضروریات پوری کرنے میں پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر توانائی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہیں اور حکومت صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب بھی تنازع کے باعث سست روی کا شکار جہاز رانی سے بچنے کے لیے اپنے کچھ خام تیل کے برآمدی کارگو ینبع منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کا راستہ استعمال کیا جا سکے۔