پاکستان میں تیل کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر کرنے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے بند کرنے کی تیاری
جنگ کے دوران تیل کی روشن بندی نہیں ہوگی، وزیر خزانہ کا کمیٹی میں اعلان
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے دوران حکومت ایندھن کی درآمد میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کے لیے توانائی بچت کے اقدامات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے،ل۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں تیل کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر کرنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کر کے آن لائن تعلیم کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں اس وقت ایندھن کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں اور فوری طور پر کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کے تقریباً 28 دن کے ذخائر جبکہ 10 دن کے خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی کے بھی تقریباً 15 دن کے برابر ذخائر دستیاب ہیں۔
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت طلب کم کرنے کے لیے توانائی بچت اقدامات متعارف کرا رہی ہے، تاہم ایندھن کی راشن بندی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں بغیر غیر ضروری شور مچائے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایندھن کے استعمال میں کمی لانا ہوگی۔”
ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدامات میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کر کے ریموٹ لرننگ کی طرف منتقل کرنا شامل ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ موجودہ دو ہفتہ وار نظام کی جگہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
تاہم ان اقدامات کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔ کمیٹی اس معاملے پر جمعرات کو دوبارہ غور کرے گی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کریں گے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث پیٹرول کمیٹی کو بعض اوقات گھنٹوں کی بنیاد پر فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں اور وزیراعظم نے کمیٹی کو فوری فیصلوں کا اختیار دے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر سے آنے والے ایل این جی کارگو کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں اور حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں توانائی کے محتاط استعمال اور طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت دوست ممالک اور توانائی فراہم کرنے والوں کے ساتھ سفارتی اور تجارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اضافی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی فراہمی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جن میں بحیرہ احمر اور خلیجی بندرگاہوں کے ذریعے سپلائی کے انتظامات شامل ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی منتقلی اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت نے بدھ کو ہی سعودی عرب سے یقین دہانی حاصل کی ہے کہ وہ پاکستان کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے تیل فراہم کرے گا۔