ایرانی بمبار طیارے قطر میں امریکی اڈے تک پہنچنے کا انکشاف

سوویت دورکے 2 ایس یو24 مارگرائے گئے۔ہدف العدیدبیس تھا

               
March 5, 2026 · امت خاص

قطری فضائیہ کا ایف 15 طیارہ

 

ایران کے خلاف جنگ کا تیسرادن تھا،تل ابیب، تہران، اورخلیجی ریاستوں کے آسمانوں میں میزائلوں اور ڈرونزکی بھرمارتھی۔میزائلوں کو روکنے کے لیے اینٹی میزائل سسٹم فعال ہوتے ،دھماکے سنائی دیتی ، کچھ ہتھیار تباہ ہوجاتے اور کچھ ہدف سے جاٹکراتے۔پورے خطے میں ڈرونزکی پروازیں بھی جاری تھیں۔اس دوران ،قطر میں فضائی دفاع کے نظام نے اچانک ایک غیرمعمولی نقل وحرکت کو محسوس کیا۔را ڈار پر 2 اجنبی طیارو ں کی نشان دہی ہوئی۔ نگرانی کرنے والے اہلکاروں نے اسکرینوں پر دو تیز رفتار نشان دیکھے۔ جلد ہی ان کی شناخت بھی ہو گئی ۔کیمرے کی تصاویر میں واضح نظر آ رہا تھا کہ دونوں طیارے بموں اور گائیڈڈ گولہ بارود سے بھرے ہوئے ہیں۔

 

ریڈیوآپریٹرزنے وارننگ جاری کردی۔آپ قطری حدود کے قریب ہیں۔ اپنی شناخت بتائیں اور راستہ بدلیں۔لیکن جواب میں صرف خاموشی تھی۔

خلیج فارس پر محوپرواز فائٹرزنے بلندی کم کرلی اور 80فٹ پرچلے گئے۔

 

دوحہ سے واشنگٹن تک سنسنی پھیل گئی۔وہ ایرانی طیارے تھے اور ان کا ہدف امریکی ائربیس تھا۔العدید کا مستقر ایرانی فضائیہ کا ہدف بننے والا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کا سب سے بڑا فوجی اڈہ جہاں تقریباً دس ہزار امریکی فوجی تعینات رہتے ہیں!

 

صورت حال واضح ہوتے ہی قطری فضائیہ کے طیارے نے اڑان بھری اورفضائوں میں جاپہنچا۔ایف 15 ،قطرکی تاریخ میں پہلی فضائی جنگ کرنے جارہاتھا۔

کچھ ہی دیر میں دونوں اطراف کے طیارے آمنے سامنے تھے۔فضا میں تیز رفتار موڑ، ریڈار لاک اور میزائلوں کی گرج سنائی دی۔ مختصر مگر شدید فضائی معرکے کے بعد قطری پائلٹ نے دونوں طیاروں کو نشانہ بنایا۔

 

چند لمحوں بعد وہ سمندر کی طرف گرتے ہوئے آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئے اور قطر کے علاقائی پانیوں میں جا گرے۔اس وقت ایرانی طیارے اپنے ہدف سے صرف’’دو منٹ‘‘ کی دوری پر تھے۔

 

یہ پہلا موقع تھا کہ قطری فضائیہ کسی فضائی لڑائی میں شامل ہوئی ۔ امریکی جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک بریفنگ میں ایرانی بمباروں کے ہدف کی وضاحت کیے بغیر اس واقعے کا اعتراف کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق، امریکی ائربیس کے علاوہ قدرتی گیس کی پروسیسنگ کا ایک پلانٹ بھی ممکنہ طورپر ہدف تھا اور جو طیارے گرائے گئے وہ سوویت دور کے ایس یو24 تھے۔