سال 2026 کا پہلا کیس رپورٹ ، سجاول میں 4 سالہ بچہ پولیو کا شکار
اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کیس کی تصدیق کی۔
فائل فوٹو
کراچی: پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کوشاں نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) نے جمعرات کے روز سال 2026 کے پہلے وائلڈ پولیو کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع سجاول سے تعلق رکھنے والا ایک چار سالہ بچہ اس عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والے وائرس کا شکار ہوا ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے اس کیس کی تصدیق کی ہے۔ پولیو کے خاتمے کے پروگرام (PEI) کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے 1994 سے اب تک پولیو کیسز میں 99.8 فیصد تک نمایاں کمی کی ہے۔ 90 کی دہائی میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئے تھے۔ رواں سال اب تک 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی جا چکی ہے، جبکہ اگلی بڑی مہم اپریل میں شروع کی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ 2024 کے مقابلے میں مجموعی طور پر وائرس کی موجودگی میں کمی آئی ہے، تاہم سندھ کے بعض اضلاع اور جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی گردش بدستور برقرار ہے، جو تشویشناک ہے۔
پولیو پروگرام کے حکام نے والدین، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جس کا واحد حل صرف اور صرف حفاظتی ویکسین ہے۔