خطے میں ایران کے اتحادیوں پرانگلیاں کیوں اٹھائی جارہی ہیں؟

طاقتور ترین سفارتی شراکت داروں روس اور چین نے جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا

               
March 5, 2026 · امت خاص

 

 

امریکہ اوراسرائیل کی جارحیت کے بعد خطے میں بڑے ایرانی اتحادیوں،چین ،روس اور بھارت پرانگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔

 

تہران کے دو طاقتور ترین سفارتی شراکت دار روس اور چین نے ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کو “انسانی اخلاق کے تمام اصولوں کی مذموم خلاف ورزی قرار دیا۔چین کے خارجہ امور کے وزیر وانگ یی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون سار کو بتایا کہ طاقت حقیقی معنوں میں مسائل حل نہیں کر سکتی کیونکہ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں۔روس اور چین نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔

 

یہ ردعمل ایران، روس اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ماسکو اور بیجنگ نے دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور مشترکہ بحری مشقوں کے ذریعے ہم آہنگی کو بڑھایا ہے،پھر بھی ان کی تیز بیان بازی کے باوجود، دونوں میں سے کسی نے بھی ایران کی حمایت کے لیے فوجی مداخلت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

 

2021 میں، چین اور ایران نے 25سالہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد توانائی جیسے شعبوں میں تعلقات کو بڑھانا اور ایران کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شامل کرنا ہے۔ بیجنگ نے ،خاص طور پر فوجی شمولیت کے حوالے سے، شراکت داری کے ارد گرد واضح حدیں کھینچ رکھی ہیں۔ چینی حکومت ہمیشہ دوسرے ممالک کے مسائل میں مداخلت نہ کرنے کی پابندی کرتی ہے،ایسا نہیں لگتا کہ چینی حکومت ایران کو ہتھیار بھیجے گی۔اس کے بجائے، بیجنگ کا کردار سفارت کاری اور بحران کے انتظام پر توجہ مرکوز کرنے کا زیادہ امکان ہے۔ماہرین کی رائے میں چین امریکی فریق اور خلیجی ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

الجزیرہ کے مطابق ،بین الاقوامی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایران کے حوالے سے چین کا کردار حفاظتی پہلومیں تبدیل ہوا ہے، جس نے ایسی علاقائی تباہی کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو تیز کیا ہے جس سے اس کے اپنے علاقائی اقتصادی اور سلامتی کے مفاد کو خطرہ ہو گا۔

مزید پڑھیں: ایران پر امریکی واسرائیلی یلغار کے درمیان بھارت کی ڈبل گیم

جنوری 2025 میں، روس اور ایران نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں تجارت اور فوجی تعاون سے لے کر سائنس، ثقافت اور تعلیم تک کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔معاہدے نے دفاعی اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کو گہرا کیا اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز جیسے منصوبوں کی حمایت کی، جو روس کو ایران کے راستے خلیج سے جوڑتے ہیں۔

 

دونوں ملکوں نے ، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے ایک ہفتہ قبل،بحر ہند میں مشترکہ فوجی مشقیں فروری کے آخر میں کیں۔تاہم، جب جنگ شروع ہوئی، ماسکو جواب دینے کا پابند نہیں تھا کیونکہ معاہدے میں باہمی دفاعی شق شامل نہیں تھی، یعنی اس نے باقاعدہ فوجی اتحاد قائم کرنے سے روک دیا۔

 

روسی بین الاقوامی امور کی کونسل کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور روسی خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک والڈائی ڈسکشن کلب کے رکن آندرے کورٹونوف نے بتایا کہ شمالی کوریا کے ساتھ روس کا 2024 کا باہمی دفاعی معاہدہ فوجی تعاون پر زیادہ پابند معاہدے کی ایک مثال ہے۔، اس معاہدے کے تحت، روس شمالی کوریا کے ساتھ کسی بھی تنازع میں شامل ہونے کا پابند ہو گا، لیکن ایران کے ساتھ، اس کے معاہدے میں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ فریقین نے کسی بھی قسم کے معاندانہ اقدامات سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے اگر دوسرا فریق تنازع میں ملوث ہے۔

 

کورٹونوف نے کہا کہ روس کا ایران کی حمایت میں براہ راست فوجی کارروائی کا امکان نہیں کیونکہ خطرات بہت زیادہ ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ماسکویوکرین کے درمیان امریکی ثالثی کو ترجیح دے رہا ہے، اور کہا کہ روس نے اس سے قبل جنوری میں امریکی فوجی حملے اور اس کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا جیسے مقامات پر امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ایسا ہی طریقہ اختیار کیا ہے۔اگرچہ اس معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ روس مداخلت کرنے کا پابند نہیں لیکن تہران میںمایوسی کی ایک حد کا اظہار کیا گیاہے، اور یہ توقع تھی کہ روس کسی نہ کسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا دیگر کثیر جہتی فورمز میں سفارتی اقدامات سے زیادہ کچھ کرے۔

 

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق،روس نے ایران کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات بھی شیئر کی ہیں اور تہران کو میزائل اور گولہ بارود بھی بھیجا ہے۔تاہم روس اور ایران کی شراکت داری نظریے پر مبنی نہیں ۔ روسی سیاست دان ایران کو خاص پسند نہیں کرتے لیکن وہ تہران کو ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹیجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ میں روس کے فعال طور پر مداخلت کرنے کا امکان کم ہے۔

 

ماہرین کا کہناہے کہ دونوں ممالک دفاعی اتحادی نہیں ۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان ایک غیر رسمی عدمِ حملہ معاہدہ موجود ہے۔ تہران کو پھر بھی ماسکو سے واضح سیاسی اور عسکری حمایت کی توقع تھی۔ اس میں عسکری و تکنیکی تعاون میں توسیع، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دینا شامل تھا، صرف زبانی حمایت نہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی حکومت نے اپنے اندازوں میں غلطی کی۔

عالمی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ روس کی جانب سے حمایت کا فقدان ایرانی قیادت کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں۔ تہران میں ماسکو پر انحصار کرنے کے حوالے سے شکوک و شبہات کافی عرصے سے موجود ہیں۔ جیسا کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بار کہا تھا کہ روس نے ہمیشہ ایرانی قوم کو بیچا ہے، اور صدر مسعود پزشکیان نے جون 2025 کی 12روزہ جنگ کے بعد کہا جن ممالک کو ہم دوست سمجھتے تھے انہوں نے جنگ کے دوران ہماری مدد نہیں کی۔

بین الاقوامی حلقوں میں کہا جارہاہے کہ روس اور چین نے بڑی حد تک ایران کو مغرب کے ساتھ جغرافیائی سیاسی سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ادھرسری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو امریکی آبدوز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سے بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاگیاہے۔

کانگریس نے کہا ہے کہ ایرانی سیلرز ایک تقریب کے لیے بھارت آئے تھے، جس کے لیے انھیں مدعو کیا گیاتھا۔،جب وہ واپس جا رہے تھے تو ایک امریکی آبدوز نے حملہ کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔اس معاملے پر وزیر اعظم مودی کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔ یہ بزدلی ناقابل قبول ہے۔ مودی کا سمجھوتہ بھارت کو شرمندہ کر رہا ہے۔عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ایرانی جہاز کی ویڈیو شیئر کر کے لکھا کہ یہ ویڈیو مودی جی کی بزدلی کو ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رکھے گی۔ ایران نے بھارت کی دعوت پر فوجی مشق کے لیے اپنا جہاز بھیجا تھا۔سنجے سنگھ نے مزید لکھا کہ یہ جہاز امریکہ نے تباہ کردیا ہے، جس میں 100 سے زائد اہل کار مارے گئے ہیں۔ ہمارے مہمان مارے گئے اور مودی خاموش ہیں۔

مذکورہ ایرانی جنگی جہاز ” آئی آر آئی ایس دینا ”نے گذشتہ دنوں بھارت کی میزبانی میںانٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026 نامی فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔