ایندھن بچانے کے لیے ہفتے میں3دن کام بندرکھنے۔تعلیمی عمل آن لائن منتقلی کی تجاویز

کووڈ19 کی طرز پر قدامات شروع کرنے چاہئیں۔ مارکیٹوں کو مکمل لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا جائے

               
March 6, 2026 · امت خاص

 

پیٹرولیم سپلائی کی نگرانی کرنے والی ایک خصوصی سرکاری کمیٹی نےتوانائی کی بچت کے ممکنہ اقدامات کے طور پر چار روزہ ہفتہ (reduced working hours کے ساتھ) متعارف کرانے اور تعلیمی اداروں کو آن لائن لرننگ پر منتقل کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ تجاویز آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر زیرِ غور آئی ہیں۔حکام کے مطابق، کمیٹی نے ان تجاویز کا جائزہ لیا لیکن اس بات پر ارکان تقسیم نظر آئے کہ بچت کے اقدامات کو کس حد تک لاگو کیا جانا چاہیے۔

 

کچھ ارکان نے خبردار کیا کہ دفاتر اور اداروں کو جزوی طور پر بند کرنے جیسے اقدامات سے عوام میں بے چینی پھیل سکتی ہے اور ’پینک بائینگ‘ (گھبراہٹ میں خریداری) کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، دیگر ارکان کا موقف تھا کہ کارروائی میں تاخیر سے قومی ایندھن کے ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں، جس سے سپلائی کا دباؤ بڑھنے کی صورت میں بچاؤ کی گنجائش کم رہ جائے گی۔

 

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اس اجلاس میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی (LNG) کی کھپت کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز کا جائزہ لیا گیا، جن کی قیمتوں میں عالمی رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔ اقدامات کی رفتار پر اختلافات کے باوجود، کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت نہیں کر سکے گی اور اسے مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرنا پڑے گا۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی اکثریت کی رائے تھی کہ حکومت کو فوری طور پر کووڈ-19 کی طرز پر بچت کے اقدامات شروع کرنے چاہئیں، تاہم مارکیٹوں کو مکمل لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر کی صورت میں ایندھن کے اسٹاک میں کمی آئے گی۔ تاہم، اقلیتی رائے رکھنے والے ارکان نے جارحانہ اقدامات سے گریز کا مشورہ دیا تاکہ عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔

 

اجلاس میں بچت کے تقریباً ایک درجن اقدامات پر بات ہوئی، لیکن بعض تجاویز میں یہ تفصیلات موجود نہیں تھیں کہ ان سے کتنی بچت ممکن ہوگی۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے کام کے گھنٹے کم کر کے ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز پر غور کیا۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور کووڈ-19 کی طرح آن لائن تعلیم پر منتقل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ اجلاس کے ایک شریک نے بتایا کہ فی الحال پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کی کوئی سنجیدہ تجویز زیرِ غور نہیں آئی۔

 

ایک اور تجویز میں سرکاری محکموں کے ایندھن الاؤنس میں کمی کا مشورہ دیا گیا تاکہ قومی ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے، جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ 25 دن سے زیادہ کے لیے کافی نہیں۔ وزیر خزانہ نے تمام اقدامات یکدم نافذ کرنے کے بجائے مرحلہ وار طریقہ کار اپنانے کی تجویز دی۔دریں اثنا، حکومت متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات سے رابطے میں ہے۔ پی ایس او (PSO) اور دیگر ریفائنریز کے حکام بھی اسٹاک کی بحالی کے لیے اپنے سعودی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم، کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے معاہدے معاشی طور پر مہنگے ہو سکتے ہیں؛ ایک ایل این جی کارگو جو جنگ سے پہلے 30 ملین ڈالر کا تھا، اب 70 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔