ہم کرائے کے سپاہی نہیں۔ عراقی خاتون اول نے یہ بات کیوں کہی؟

صدام حسین کے خلاف کُردوں کی بغاوت کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر بیان

               
March 6, 2026 · امت خاص

عراقی خاتون اول شانازابراہیم احمد

 

عراقی خاتونِ اول شاناز ابراہیم احمد نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی جنگ میں کُردوں کو بطور مہرہ (Proxies) استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے۔شاناز احمدخود بھی ایک ممتازکرد ہیں ۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ شانازکا کہناتھاہم کرائے کے سپاہی نہیں۔

 

1991 میں سابق عراقی آمر صدام حسین کے خلاف کُردوں کی بغاوت کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پریہ بیان ان رپورٹس کے درمیان سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکہ ایرانی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے کُرد فورسز کو بھرتی کر رہا ہے۔

 

میڈیارپورٹس بتاتی ہیں کہ پینٹاگون اورسی آئی اے مبینہ طور پر کرد فورسز کو مسلح کر رہی ہے تاکہ ایرانی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔ 3 مارچ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مصطفیٰ ہجری کو فون کیا ۔انہوں نے عراقی کرد رہنماؤں کو بھی فون کیا اورکہا کہ وہ فوجی حکمت عملی کو مربوط کریں اور عراقی کردستان سے ایران تک ہتھیاروںکے لیے سپلائی روٹ قائم کریں۔

 

اپنے خطاب میں انہوں نے 1991 کی سلیمانیہ میں کُرد بغاوت کا حوالہ دیا، جس کے دوران امریکہ نےکُردوں کی مدد نہیں کی تھی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہاکہ اس وقت کوئی بھی ہمارے دفاع کے لیے نہیں آیا تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ ہماری جنگ نہیں، اور عراقی عوام کو تباہی کے ایک اور دور کے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ آج بھی، ہم ان لوگوں کی اجتماعی قبریں دریافت کر رہے ہیں جو 35 سال سے زیادہ عرصہ پہلے صدام حسین کے دورِ حکومت میں مارے گئے تھے۔

 

واضح رہے کہ امریکہ عراقی کردوں کو ایران کیخلاف زمینی حملے کیلئے اکسا رہا ہے لیکن 1991 میں انہی کردوں کو امریکہ نے استعمال کرکے چھوڑ دیا تھا۔