پیٹرول کا بحران سر اٹھانے لگا، پمپوں پر جھگڑوں کا خدشہ

مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو سپلائی بند کر دیں گے، چیئرمین پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی وارننگ

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اور اس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث ڈیلرز کے لیے کاروبار چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر حکومت نے ہمارے دیرینہ مطالبات اور مارجن کے مسائل فوری حل نہ کیے تو ملک بھر میں پٹرول ختم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول پمپوں پر عوام کے درمیان جھگڑے اور شدید بدنظمی پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔”

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ مزید نقصان پر پٹرول خرید کر فروخت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

 ایسوسی ایشن نے عندیہ دیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پٹرول پمپس بند کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب، وزارتِ توانائی اور اوگرا (OGRA) نے عوام کو صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تیل کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور ڈیلرز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔

پیٹرول نہ ملنے کی خبروں میں کتنی سچائی؟

ملک کے مختلف شہروں میں جمعہ کے روز پیٹرول کی شدید قلت کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی جیسے بڑے شہر سے لے کر وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں تک کئی پیٹرول پمپس پر “نو پیٹرول” کے بورڈ آویزاں نظر آئے۔

وفاقی دارالحکومت میں بھی پیٹرول کی دستیابی ایک چیلنج بنی رہی۔ تاہم، دلچسپ بات یہ رہی کہ جہاں شہر کے معروف اور پوش علاقوں کے پمپس پر تیل نایاب تھا، وہیں ترامڑی کے مقام پر واقع ایک نجی پیٹرول پمپ پر پیٹرول دستیاب تھا، جہاں سارا دن گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا غیر معمولی رش دیکھا گیا۔ مضافاتی علاقوں میں پیٹرول کی دستیابی نے ان دور دراز علاقوں کے مکینوں کو کسی حد تک ریلیف فراہم کیا۔

صوبائی دارالحکومت کراچی میں صورتحال کافی سنگین رہی جہاں شہر کے وسطی اور معروف علاقوں میں بھی کئی پیٹرول پمپس بند پائے گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک پمپ سے دوسرے پمپ کے چکر کاٹتے رہے لیکن بیشتر جگہوں پر سپلائی معطل تھی۔ بعض مقامات پر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں جہاں محدود مقدار میں پیٹرول فراہم کیا جا رہا تھا۔

 ذخیرہ اندوزی نہیں کررہے، آئل سپلائر کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی جائے، پمپ مالکان

یٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کے اعلان کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی کے اعلان کی مذمت کرتے ہیں، پیٹرول پمپ مالکان مصنوعی قلت پیدا نہیں کر رہے۔

اپنے بیان میں پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پیٹرول پمپس پر جو پیٹرول آرہا ہے وہ فوری فروخت ہو رہا ہے، کوئی پیٹرول پمپ پیٹرول یا ڈیزل ذخیرہ نہیں کر رہا، تمام پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی فروخت جاری ہے، جس حساب سے سپلائی دی جا رہی ہے اسی حساب سے پیٹرول دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا جواز سمجھ نہیں آتا، کارروائی آئل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ہونی چاہیے، پیٹرول کی سپلائی اور ڈیمانڈ کی پلاننگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بنتی ہے، پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی بات بلاجواز ہے۔