کردایران کے خلاف بغاوت پر تیارہیں یانہیں، صورت حال غیریقینی

ایرانی کردستان کی سیاسی قوتوں کے اتحاد کے نام سے ایک فورم رواں سال22 فروری کو قائم کیا گیاتھا

               
March 6, 2026 · امت خاص

کرد ملیشیا۔فائل فوٹو

 

 

امریکہ اور اسرائیل کے جنگی عزائم کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے ان ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں کوشش وپنج میں ڈال دیاہے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بغاوت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

 

کرد امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں کو اپنی حکومت گرانے کی اپیل سے لے کر امریکہ کے اس موقف تک کہ اس نے اپنے اتحادی اسرائیل کے دبا ئومیں آ کر ایران پر حملہ کیا، اور تہران پر حملوں کو دفاعی قرار دینے جیسے متنازع دعووں تک واشنگٹن اب تک یہ واضح نہیں کر سکا کہ ایران پر حملوں کا اصل مقصد کیا ہے یا آگے اس کی کیا حکمت عملی ہوگی۔اس صورتحال نے ممکنہ اتحادیوں، خصوصاً ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں، کو یہ سمجھنے کے لیے مشکل میں ڈال دیا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔

 

ایران کے مختلف نسلی گروہوں میں کرد شاید سب سے زیادہ منظم اور عسکری تجربہ رکھنے والے لڑاکاسمجھے جاتے ہیں۔ تہران حکومت کے خلاف مخالفانہ جذبات بھی ان میں خاصے مضبوط ہیں۔ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں نے سیاسی نیٹ ورک قائم کیے ہیں، مرکزی حکومت کے خلاف بغاوتیں برپاکی ہیں، سخت جبر اور اندرونی اختلافات برداشت کیے ہیں، اور دوسرے ممالک کی کرد تحریکوں کے ساتھ مل کر جنگی تجربہ حاصل کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایران کے خلاف منظم مسلح چیلنج پیش کرنے والی چند طاقتوں میں شامل ہیں۔

 

حالیہ عرصے میں کرد اپوزیشن گروہوں نے اپنے باہمی اختلافات کم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ایرانی کردستان کی سیاسی قوتوں کے اتحاد کے نام سے ایک فورم رواں سال22 فروری کو قائم کیا گیا، تاکہ اس کے ذریعے ایران کے کئی کرد اپوزیشن گروہ عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں موجود اپنے ٹھکانوں سے ایران کے خلاف سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ یہ اتحاد امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل قائم ہوا تھا، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ان حملوں نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایرانی حکومت کو مکمل شکست دینا ممکن نہیں۔ دوسری طرف امریکی عوام ایران کے خلاف جنگ، خاص طور پر عراق جنگ کی طرح زمینی فوج بھیجنے کے امکان، کی بڑی حد تک مخالفت کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ امکان زیرِ بحث آیا ہے کہ ایرانی کرد فورسز اس جنگ میں زمینی کردار ادا کریںاور اس کا ذکر خود ٹرمپ نے بھی کیا ہے۔

 

جمعرات کو ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس خیال کے حق میں ہوں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے شمالی عراق کے کرد علاقے کے رہنمائوں سے بھی رابطہ کیا ہے، جہاں ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تاکہ ایران کے اندر زمینی کارروائی کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایرانی کرد گروہ ایرانی زمینی افواج کے مقابلے میں بہت کمزور ہیں۔ ایران کی فوج کی تعداد تقریبا پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے، اور کرد اپوزیشن گروہ زیادہ سے زیادہ دس ہزار جنگجو اکٹھے کر سکتے ہیں۔ اس لیے تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں امریکہ یا اسرائیل کی بھاری مدد درکار ہوگی، جس میں فضائی حملے اور اسلحے کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔لیکن امریکہ کے ساتھ ماضی کے تجربات اور ٹرمپ کے غیر متوقع فیصلوں کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ ایرانی کرد اتنا بڑا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیںخاص طور پر اس تنبیہ کے بعد جو تہران نے دی ہے کہ کسی بھی بغاوت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ہم کرائے کے سپاہی نہیں۔ عراقی خاتون اول نے یہ بات کیوں کہی؟

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہناہے کہ اگر کرد ایران کے خلاف کوئی بڑی عسکری کارروائی کرتے ہیں تو اس کے لیے کردستان ریجنل گورنمنٹ کی حمایت ضروری ہوگی۔ اگر ٹرمپ جنگ کے بیچ میں کامیابی کا اعلان کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ایرانی حکومت کمزور لیکن قائم رہتی ہے تو وہ کردستان ریجن اور وہاں کے لوگوں کو سزا دینے کی صلاحیت اور خواہش دونوں رکھے گی۔

 

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے ساتھ کردوں کے ماضی کے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ 1991 میں جب امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے کردوں کو عراقی صدر صدام حسین کے خلاف بغاوت کی دعوت دی تو بغاوت کو مناسب امریکی حمایت نہیں ملی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔بعد ازاں داعش کے خلاف جنگ میں شامی کرد امریکہ کے اہم اتحادی بنے، لیکن 2017 کے عراقی کردستان ریفرنڈم کے بعد اور پھر 2019میں جب امریکہ نے شمالی شام سے جزوی انخلا کیا تو کرد فورسز ترک حملوں کے سامنے بے یار و مددگار رہ گئیں۔

 

اس کے باوجود اپوزیشن گروہوں میں ایک محتاط امید موجود ہے کہ امریکہ ایرانی کردوں کی حمایت کرے گا۔تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے ایرانی حکومت کے باقی ماندہ عناصر کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیتا ہے تو کرد ایک بار پھر تنہا چھوڑے جا سکتے ہیں اور انہیں نئی حکومت کے جبر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

زیادہ تر ایرانی کرد مسلح اپوزیشن گروہ شمالی عراق کے کرد علاقے میں موجود ہیں، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان (PDKI)، کردستان فریڈم پارٹی (PAK)، کردستان فری لائف پارٹی (PJAK) اور کوملہ شامل ہیں۔ یہ گروہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں سے جلاوطنی میں وہاں مقیم ہیں۔

ٹرمپ کی دعوت پر کسی بھی اقدام کے شمالی عراق میں کرد علاقے کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، جہاں تقریبا پچاس لاکھ افراد رہتے ہیں۔ادھر کردستان ریجنل گورنمنٹ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔ ایک غیر خودمختار خطہ ہونے کی وجہ سے وہ خطے کی خودمختار ریاستوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور اسی وجہ سے اکثر ایرانی جوابی کارروائیوں کا پہلا نشانہ بنتا ہے۔

 

حالیہ برسوں میں ایران کئی بار شمالی عراق کے کرد علاقے پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے، لیکن امریکہ نے ان حملوں کے دوران خاص تحفظ فراہم نہیں کیا۔2017 کے کردستان ریفرنڈم کے بعد بھی واشنگٹن نے بالآخر عراقی مرکزی حکومت اور ایران نواز شیعہ ملیشیائوں کی حمایت کی تھی جو کرد کنٹرول والے علاقوں کے خلاف کارروائی کر رہی تھیں۔اسی تاریخ کی وجہ سے، امریکہ کے ساتھ طویل تعلقات کے باوجود، کرد قیادت میں ایران کے خلاف امریکی یا اسرائیلی محاذ آرائی میں شامل ہونے کے بارے میں شدید احتیاط پائی جاتی ہے۔اس کے باوجود، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات کرد گروہوں کے لیے ایک تاریخی موقع بھی ہو سکتے ہیں۔

 

محققین کے مطابق کرد گروہ تقریبا پانچ دہائیوں سے ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں، اس سے پہلے پچاس سال پہلوی دور میں بھی انہیں جبر کا سامنا رہا۔اس لیے امریکہ پر عدم اعتماد اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ممکن ہے کہ یہی وہ موقع ہو جس کا کرد برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔جنوری میں ایران کے بڑے احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے، جو حکومت کے خلاف عوامی غصے کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ممکنہ کرد بغاوت کی حمایت بھی کر سکتے ہیں۔ شمالی عراق کے کرد علاقے میں ایرانی کرد اپوزیشن سے ملنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔