حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کا کلسٹر بم چلا دیا، 55 روپے فی لیٹر اضافہ
مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، نئی قیمت کے اطلاق سے پہلے لوگ ٹینکیاں فل کرانے کی کوشش کرتے رہے
قیمتیں بڑھنے کے بعد کراچی میں ایک پیٹرول پمنپ پر نئے ریٹ کے حساب سے پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔ تصویر امت ڈیجیٹل
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد شہریوں کے لیے سفر مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 12 بجے سے ہوگیا ہے۔
اعلان کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے امکان پر جمعہ کی شام سے ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ شہری مہنگا ہونے سے قبل ٹینک فل کروانے کے لیے پمپس کا رخ کرتے رہے۔
پیٹرول مہنگا ہونے کے باوجود معمولاتِ زندگی جاری ہیں، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
حکومت نے ایران جنگ کے پیش نظر پیٹرولیم قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قلت کا مسئلہ دو دن سے چل رہا تھا جو جمعہ کو قیمتوں میں اضافے کے امکان پر شدت اختیار کرگیا۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے اقدامات کا اعلان کیا۔