خلیج میں جنگ پر پاکستان نے اپنی بندرگاہ عالمی تجارت کیلئے پیش کردی
علاقائی بندرگاہوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ خدمات دینے کے لیے تیار ہے۔پورٹ آپریٹرز
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری تجارت کو لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان نے عالمی کارگو کی بلا تعطل ٹرانس شپمنٹ کے لیے اپنی کراچی بندرگاہ پیش کر دی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے پورٹ آپریٹر نے یہ اعلان کیا۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے،
اس کشیدگی کے باعث فضائی سفر متاثر ہوا ہے، فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے علاقائی بندرگاہوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ خدمات دینے کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی سمندری تجارت کے’’تسلسل اور استحکام‘‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین شاہد احمد نے بندرگاہ حکام کے جاری کردہ بیان میں کہا کہ کراچی پورٹ عالمی بحری برادری کی معاونت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور علاقائی تجارتی روابط کو برقرار رکھنے کے مفاد میں قابل اعتماد، مؤثر اور محفوظ بندرگاہی خدمات فراہم کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سہولت خطے کی مختلف بندرگاہوں کے لیے جانے والے کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے سمندری تجارت کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
بیان کے مطابق اس صلاحیت کے عملی مظاہرے کے طور پر بین الاقوامی جہاز ایم وی ٹی ایس ٹاکوما اور ایم وی ٹی ایس سڈنی کراچی پہنچے جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں کنٹینرز ٹرانس شپمنٹ کارگو کے طور پر اتارے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کنٹینرز بعد ازاں کراچی سے مشرق وسطیٰ کی بندرگاہ جبل علی منتقل کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ آبی گزرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔