لائیو 7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل جلد پاکستان پہنچےگا؛روسی میڈیا

روس جلد پاکستان کو خام تیل کی ایک بڑی کھیپ فراہم کرے گا جس سے ملک کو توانائی کے شعبے میں ممکنہ دباؤ سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

               
March 7, 2026 · Live

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدہ صورتحال اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی حالات کے دوران پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد پاکستان کو خام تیل کی ایک بڑی کھیپ فراہم کرے گا جس سے ملک کو توانائی کے شعبے میں ممکنہ دباؤ سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
روسی میڈیا نے عالمی توانائی امور کے ماہر ڈاکٹر ممودہ سلامے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تقریباً 7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل کی کھیپ جلد پاکستان روانہ کی جائے گی جو چند ہفتوں میں پورٹ قاسم پہنچنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سپلائی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔t
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر مشتمل ہے اور طویل عرصے سے ملک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی پالیسی کے تحت روس سے بھی خام تیل خریدنا شروع کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق روس سے آنے والی یہ کھیپ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان کو نسبتاً مناسب نرخوں پر تیل مل جاتا ہے تو اس سے ملکی معیشت پر پڑنے والے دباؤ میں کچھ کمی لائی جا سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہر دس فیصد اضافے سے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ ملک کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان کے سالانہ تجارتی خسارے میں 5 سے 7 ارب ڈالر تک اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس سے تیل کی سپلائی پاکستان کے لیے ایک متبادل ذریعہ فراہم کرتی ہے جس سے ملک کو توانائی کی منڈی میں زیادہ لچک حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کے معاہدے مستقل بنیادوں پر جاری رہتے ہیں تو پاکستان مستقبل میں تیل کی درآمدات کے لیے زیادہ متوازن حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں متبادل ذرائع تلاش کرنے اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے ملکی معیشت کو محفوظ رکھا جا سکے