لاہور،وزیراعظم سے نوازشریف کی ملاقات،ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال

عالمی حالات کے باوجود ملک میں پٹرولیم سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال اس وقت قابو میں ہے

               
March 7, 2026 · اہم خبریں

لاہور میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے نواز شریف سے جاتی عمرہ میں اہم ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں اسحاق ڈار اور مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ اجلاس کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو کی گئی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی حالات کے باوجود ملک میں پٹرولیم سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود حکومت نے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور حالیہ قیمتوں میں اضافہ بھی مجبوری کے تحت کیا گیا۔

وزیرِاعظم نے مزید بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور ایران، سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تیل کی سپلائی کے حوالے سے رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں پاکستان کو مزید تیل کی فراہمی کی توقع ہے جس سے پٹرولیم صورتحال مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران خطے کے اہم ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے بھی کیے گئے ہیں تاکہ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر نواز شریف نے علاقائی کشیدگی کے باوجود توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ممکنہ توانائی بحران سے بچانے کے لیے متبادل اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات نہایت حساس ہیں اور حکومت کو محتاط اور دانشمندانہ معاشی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کو ترجیح دینا ضروری ہے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد اور بہتر حکمت عملی کے ذریعے موجودہ چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔