جنگ کا دوسرا ہفتہ- 8 سے 16 مارچ: آبنائے ہرمز کی بندش امریکہ کیلئے مشکل بن گئی
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی تازہ ترین معلومات
فجیرہ بندرگاہ پر ہفتہ 14 مارچ کو حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
اہم نکات
-
- جنگ کے دوسرے ہفتے میں ایران نے اپنا سطریں لیڈر چن لیا اور اسرائیل کے علاؤہ خلیجی ممالک پر حملے تیز کر دیئے۔
- آبنائے ہرمز کی بندش شدید ہوتی گئی۔ ایران نے کئی جہاز تباہ کیے۔ اس راستے سے تیل کا گزرنا تقریبا ناممکن ہوگیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
- یہ لائیو پیج اب بند کردیا گیا۔ آپ اس کے بعد کی صورتحال یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کا یہ بیان رپورٹ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی کوشش جاری رکھیں گے۔
پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے حملوں کی 52 ویں لہر کے دوران خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں مغربی تہران میں واقع ایرانی اسپیس ریسرچ سینٹر شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ ادارہ ایران کی اہم خلائی تحقیقاتی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور سیٹلائٹ اور انٹیلیجنس میپنگ سے متعلق تحقیق کا مرکزی ادارہ ہے۔
اس حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں عمارت کو ہونے والے نمایاں نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اردن کے شہر العقبة میں فضائی حملے کی وارننگ (ایئر ریڈ سائرنز) بجائی گئی ہے۔ یہ شہر اسرائیل کے جنوب میں ایلات کے سامنے واقع ہے۔
یہ وارننگ اس وقت جاری کی گئی جب بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی فضائی حملوں کی وارننگ جاری کی تھی۔
سوئٹزرلینڈ نے امریکہ کو فضائی راہداری دینے سے انکار کردیا۔
سوئس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران پر حملوں میں ملوث امریکی طیاروں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی،یہ اقدام ہماری غیر جانبدار پالیسی کے تحت اٹھایا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے مطابق انسانی اور طبی امداد سے متعلق پروازوں کو اجازت دی جا سکتی ہے، زخمیوں کی منتقلی اور غیر جنگی پروازوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔
سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں 10 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
یہ بیان اس کے ایک گھنٹے بعد آیا جب وزارت نے ملک کے مشرق میں دو دیگر ڈرونز کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے پہلے وزارت نے کہا تھا کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں سات ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔
لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے کفار یووال بستی کے شمال میں واقع کالف ہِل کے مقام پر موجود اسرائیلی فوجیوں پر راکٹ داغے ہیں۔
تنظیم کے مطابق لبنان کے سرحدی قصبے میس الجبل کے سامنے واقع جیبیا پوائنٹ پر تعینات اسرائیلی فوجیوں کو توپ خانے سے بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے بعد آج صبح حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔
وزارت کے مطابق جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ دراصل ان میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے (انٹرسیپٹ کرنے) کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔
اردن کے جنوبی شہر عقبہ میں فضائی حملے کے سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ شہر اسرائیل کے جنوبی شہر ایلات کے مقابل واقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق سائرن اس وقت بجائے گئے جب خطے میں ممکنہ فضائی حملوں کے خدشات کے باعث الرٹ جاری کیا گیا۔ اسی دوران بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی فضائی حملوں سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ مزید معلومات ملنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقے میں سات ڈرونز تباہ کیے ہیں۔
اس سے قبل دبئی اور قطر کے حکام نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا ہے۔
دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ مرینا اور الصفوح کے علاقوں میں جو آوازیں سنائی دیں، وہ حملوں کو کامیابی سے روکنے کی تھیں۔
ادھر، قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے سنیچر کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے چار بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز کو کامیابی سے روکا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صبح سویرے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روک لیا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کے مطابق میزائلوں کی یہ بارش وسطی اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ اب تک اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
الجزیرہ عربی کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی شہر صیدا کے علاقے شرحبيل میں ایک اپارٹمنٹ عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے۔
حملے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں فوری معلوم نہیں ہوسکا
گزشتہ روزبغداد میں سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
28 فروری سے حملے جاری ہیں، ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق تباہ ہونے والی ان 43 ہزار میں سے 36500 عمارتیں اقامتی یونٹس ہیں۔
صرف تہران میں امریکہ اور اسرائیل نے 10 ہزار عمارتوں کو نشانہ بنایا جن میں 43 ایمرجنسی طبی مراکز اور وہاں کھڑی 32 ایمبولینسیں، اور 120 اسکولز شامل ہیں۔
ایرانی حکومتی ترجمان کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں مین 223 خواتین شہید ہوئی ہیں، شہادت پانے والے ٹیچرز اور طلبہ کی تعداد 206 ہوچکی ہے۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے شہر ہولون میں آگ لگنے کی اطلاع ہے، جس پر اسرائیلی فائر فائٹرز اور ہنگامی عملہ فوری طور پر کارروائی کر رہا ہے۔
تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ہولون میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کی ٹیمیں مختلف مقامات پر پہنچ چکی ہیں جہاں واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، تاہم اب تک کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل اسرائیلی آرمی ریڈیو نے بتایا تھا کہ میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ملبہ وسطی شہر رملہ میں گرنے سے بھی آگ لگ گئی تھی۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے شہر ہولون میں آگ لگنے کی اطلاع ہے، جس پر اسرائیلی فائر فائٹرز اور ہنگامی عملہ فوری طور پر کارروائی کر رہا ہے۔
تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ہولون میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کی ٹیمیں مختلف مقامات پر پہنچ چکی ہیں جہاں واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، تاہم اب تک کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل اسرائیلی آرمی ریڈیو نے بتایا تھا کہ میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ملبہ وسطی شہر رملہ میں گرنے سے بھی آگ لگ گئی تھی۔
خبر:
اردن کے شمالی شہر اربد میں میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میزائلوں کی روک تھام کے دوران شہر میں زور دار دھماکے سنائی دیے۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو طعنہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے چین سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوچکا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی سیکیورٹی کی چھتری میں بہت سے سوراخ ہوچکے ہیں اور وہ مشکلات سے بچانے کے بجائے مشکلات کو دعوت دینے کا سبب بن رہی ہے۔
ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے داغے گئے تازہ میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ میزائل کھلے علاقوں میں آ کر گرے۔ اسی دوران میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کا ملبہ وسطی شہر رملہ میں گرنے سے آگ لگ گئی۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو نے مزید بتایا کہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے داغے گئے تازہ میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ میزائل کھلے علاقوں میں آ کر گرے۔ اسی دوران میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کا ملبہ وسطی شہر رملہ میں گرنے سے آگ لگ گئی۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو نے مزید بتایا کہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں انٹرسیپٹر ڈرون بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آکٹوپس نامی انٹرسیپٹر اینٹی ڈرون سسٹم کو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
یہ انٹرسیپٹر برطانیہ میں تیار کیا جاتا ہے اور پہلے ہی یوکرین کو روس کے خلاف دفاع کے لیے فراہم کیا جا چکا ہے۔
کویت کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے باعث اس کے ایئرپورٹ کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
کویت نے خطے میں جاری جنگ کے باعث تمام پروازیں معطل کرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کویت کے وزارتِ دفاع نے اپنے ایئر بیس پر ڈرونز حملوں اور اس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ خَارگ جزیرے پر امریکی حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی ٹھکانے اور فوجی مقامات اب جائز اہداف بن چکے ہیں۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارگ پر حملے کے بعد ایران کو اپنی قومی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران امریکی دشمن کے میزائلوں کے مبینہ مراکز، بندرگاہوں، گودیوں اور ان مقامات کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے جہاں امریکہ کے فوجی اہلکار متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے امارات میں رہنے والے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے بندرگاہوں، گودیوں اور امریکی فوجی تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں اور ان علاقوں سے دور رہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر ڈرون حملے کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ لبنان اور اسرائیل میں بھی حالیہ حملوں کے نتیجے میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے
رپورٹس کے مطابق پورٹ آف فجیرہ، جو خطے کے بڑے تیل ذخیرہ کرنے والے مراکز میں شمار ہوتا ہے، پر ڈرون حملے کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اسے توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہم تنصیب سمجھا جاتا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق حملے کے بعد فجیرہ پورٹ کے بعض حصوں پر کام بند ہوگیا۔
فجیرہ بندرگاہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل ذخیرہ کرنے کی بڑی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے اور امارات کے لیے نہایت اہم اسٹریٹجک مقام رکھتی ہے۔ یہ بندرگاہ جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے یعنی بنکرنگ کے لیے بھی ایک مرکزی مرکز سمجھی جاتی ہے۔
فجیرہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خلیج عمان کے ساحل پر واقع ہے نہ کہ خلیج فارس میں، جس کی وجہ سے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً بند ہو چکی ہے۔
آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اس بندرگاہی کمپلیکس کے اوپر دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی مفادات، جن میں بندرگاہیں، گودیوں اور فوجی تنصیبات شامل ہیں، اب جائز اہداف بن چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ردعمل جزیرہ خارگ پر امریکی حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو ایران کی تیل صنعت اور معیشت کے لیے انتہائی اہم تنصیب سمجھی جاتی ہے
دوسری جانب لبنان میں سیدون کے علاقے حارت صیدا میں ایک اپارٹمنٹ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی اطلاعات کے مطابق یہ آگ ایک اسرائیلی حملے کے بعد لگی جس سے رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
ادھر اسرائیل میں بھی حالیہ حملوں کے دوران رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ وسطی اسرائیل کے شہر Shoham میں ایک عمارت کی چھت حملے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ایران کے سینئر عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے اور اس کے لیے امریکہ کو نقصانات کا مکمل ازالہ کرنا ہوگا جبکہ خلیج فارس سے امریکی انخلا بھی ضروری شرط ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں ایرانی رہنما محسن رضائی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں فیصلہ ایران کرے گا اور اس حوالے سے دو بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں۔
ان کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ امریکہ ایران کو جنگ کے دوران ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ دوسری شرط یہ ہے کہ مستقبل کے لیے ایران کو سو فیصد ضمانت فراہم کی جائے، جو ان کے بقول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ جی موجودگی ختم کرتے ہوئے خلیج فارس سے مکمل طور پر انخلا نہیں کرتا۔
Senior Iranian official Mohsen Rezaee:
The end of the war is in our hands. We will consider ending the war only when, first, we receive full compensation for all our damages from the United States, and second, we obtain a 100% guarantee for the future, which is not possible… pic.twitter.com/SMoL7VRGzs
— Clash Report (@clashreport) March 14, 2026
جنوبی لبنان سے موصولہ رپورٹ اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کا براہ راست حزب اللہ سے تعلق نہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ برج قلعویہ قصبے میں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت طبی عملے کے کم از کم 12 ارکان اس وقت مارے گئے جب قصبے کے بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے سڑکوں اور پلوں سمیت دیگر شہری انفراسٹرکچر پر بھی بمباری کی ہے۔ اسرائیل نے جنوب میں انخلا زون کا حجم تقریباً دوگنا کر دیا ہے اور مزید لاکھوں افراد کو شمال کی طرف نقل مکانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سینٹ کام نے یو ایس ایس ابراہم لنکن غیر فعال ہونے کی تردید کردی
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ابراہام لنکن کیریئراسٹرائیک گروپ اب بھی ایران کے خلاف فعال ہے،سینٹ کام نے بحری جہاز پر طیاروں کی آمد ورفت کی ویڈیو بھی جاری کردی۔
پاسداران انقلاب بحری بیڑے کو ناکارہ بنانے کادعویٰ کررہےہیں، اس سے پہلے بھی وہ اس جہاز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔
ایران کے مغربی علاقے میں امریکی-اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 6 ماہ کا شیرخوار بچہ بھی شامل ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ مغربی ایران کے صوبہ ایلم کے شہر ایان میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا۔
رپورٹس میں ایک مقامی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور ملبہ ہٹا کر متاثرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈرون کو فضاء میں ہی روک کر مار گرایا۔
بیان میں واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ ڈرون کی نوعیت یا اس کے ممکنہ ہدف کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے۔
گزشتہ رات ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد علاقے میں گہرا دھواں فضا میں پھیلتا ہوا دیکھا گیا۔
ملک کے دیگر شہروں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں کیراج اصفہان اور تبریز شامل ہیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔
ایرانی حکام نے جوابی کارروائی کی بات بھی کی ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی علاقوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی جدید ترین ہتھیاروں، جن میں حیدر میزائل بھی شامل ہیں، استعمال کر سکتے ہیں۔
ادھرخرگ جزیرے پر حملوں کی اطلاعات کو اس تنازع میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی “غزہ حکمتِ عملی” اب لبنان میں بھی نافذ ہونے لگی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
انسانی امور سے وابستہ عہدیدار Jonathan Whittall کے مطابق یہ صورتحال “لبنان میں اسرائیل کی غزہ پالیسی کے نفاذ کی ابتدائی جھلک” ہے۔
ان کے بقول اس حکمتِ عملی کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہے لوگوں کو بے دخل کرنا، عمارتیں مسمار کرنا اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح اس کے ارکان نے شمالی اسرائیل میں راکٹ اور توپ خانے سے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے ان حملوں میں اسرائیلی شہر صفد کے قریب واقع عین زیطیم اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سرحدی قصبے بلیدہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ایک اجتماع پر بمباری کی گئی ہے۔
حزب اللہ کے مطابق یہ حملے لبنان کے علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں گئے ہیں۔
ایران کی جانب سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں 20 دھماکے سنے گئے، حملے کے بعد متعدد مقامات پر آگ لگ گئی۔
علاوہ ازیں امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران نے ترکیے کے بحری جہاز کو آبنائے ہُرمُز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔
ترکیے کے ٹرانسپورٹ منسٹر عبدالقادر اورال اوگلو نے بتایا کہ ترکیہ کے 15 بحری جہاز اس وقت خطے میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ان میں سے ایک جہاز کو گزرنے کی اجازت دی، وہ جہاز آبنائے ہرمز پار کر گیا۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نےکئی ماہ تک بھارت کو روس سے تیل نہ خریدنے پرمجبورکیا۔
یورپ کوخام خیالی تھی روس کیخلاف امریکی حمایت مل جائےگی اور اب دو ہفتوں کی جنگ کے بعد امریکا دنیا سے روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہاہے۔
دبئی میں فضائی حملہ ناکام بنائے جانے کے بعد گرنے والا ملبہ شہر کے مرکزی علاقے میں ایک عمارت کے سامنے والے حصے سے ٹکرا گیا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایک فضائی حملے کو کامیابی سے روک دیا، تاہم اس کے بعد گرنے والا ملبہ وسطی دبئی میں واقع ایک عمارت کے فرنٹ پر آ گرا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں نہ کوئی آگ بھڑکی اور نہ ہی کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ میزائل کے ذریعے کیا گیا تھا یا ڈرون کے ذریعے۔
اطلاعات کے مطابق بغداد میں امریکی سفارت خانے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مبینہ حملے کے بعد بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے سے دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا، جبکہ علاقے میں فضائی حملے کے سائرن بھی بجنے کی آوازیں سنی گئیں۔
تاحال حملے کی نوعیت اور ممکنہ نقصان کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
برینٹ 103ڈالر سینٹس، ڈبلیو ٹی آئی 98ڈالر سینٹس اضافہ ہوا ہے
ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی رہنماؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہفتہ کی صبح ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا کے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے 10 ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول اسرائیلی رہنماؤں کے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ بیس اور عراق میں اربیل کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا گیا ہے۔
تاہم ایرانی فوج کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جلد ہی امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو حفاظت فراہم کرنا شروع کر دے گی۔
تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی کہ یہ کام کب سے شروع کیا جائے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کسی حد تک مختلف ہو سکتے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق کویت میں نیشنل گارڈ نے حساس علاقوں میں ایک ڈرون کو تباہ کیا۔ ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اہم تنصیبات کے تحفظ اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران خلیجی خطے میں مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جن میں امریکی اثاثے اور فوجی اڈے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور شہری مقامات بھی نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے ملک کے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے میزائلوں کو مار گرائے جانے کی ویڈیوز بنانے، اور دھماکوں اور حملوں کی جعلی ویڈیوز شائع کرنے کے الزام میں 10 افراد کو گرفتار کا حکم دیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ان افراد نے متحدہ عرب امارات میں حملوں کی حقیقی فوٹیج کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ان افراد کا ’تیز ٹرائل‘ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، ابوظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملک پر حملوں کے دوران فلم بنانے اور ’غلط معلومات پھیلانے‘ کے الزام میں ’مختلف قومیتوں‘ سے تعلق رکھنے والے 45 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

جرمن چانسلر ایران میں جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بول پڑے، جرمن چانسلر نےکہاکہ ایران جنگ نے جرمنی کی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثر ڈالا، ٹرمپ کے پاس خلیج فارس میں جنگ ختم کرنے کی واضح حکمت عملی نہیں۔
یاد رہےکہ گزشتہ ہفتے جرمن چانسلر اور امریکی صدر ایران جنگ کے مقاصد سے متعلق ایک صحفے پر تھے۔
ایران نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بھی اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائلوں سے حملے کیے۔ شہر میں لگ بھگ 20 دھماکے سنے گئے۔ ان حملوں کے بعد کئی جگہ آگ لگ گئی۔ جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آنس شروع ہوگئی ہیں۔
اسرائیل نے اپنے نقصانات چھپانے کیلئے سخت سنسر شپ نافذ کر رکھی ہے۔ حتی کہ صحافیوں کو بھی رپورٹنگ کی اجازت نہیں۔۔تاہم ان ویڈیوز کی گروک نے بھی تصدیق کی ہے۔
More than 20 explosions were heard in central Israel: it was an attack by Iran using ballistic missiles with cluster warheads. pic.twitter.com/1xP0xVJCeD
— NEXTA (@nexta_tv) March 13, 2026
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے خود کو اسرائیل کے خلاف ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار کر لیا ہے۔
دونوں فریق ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حزب اللہ نے ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد اسرائیل پر فضائی حملے کیے تھے۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو خطے میں امریکی مفادات رکھنے والی تمام توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کی آئل انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود وہ تمام تیل اور توانائی کی تنصیبات تباہ کر دی جائیں گی جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں، یا جن میں امریکی حصص موجود ہیں یا جو امریکا کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایسے کسی بھی حملے کی صورت میں ان تنصیبات کو “راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کے جزیرے خارگ آئی لینڈ پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
دو امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ امکان ہے کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ کی طرف ایک میرین یونٹ اور اضافی جنگی جہاز بھیجے گا۔
اس حوالے سے اخبار والسٹریٹ جنرل نے بھی رپورٹ شائع کی ہے۔
اس منصوبے کے مطابق امریکی بحری جہاز اور ایک میرین یونٹ جاپان سے مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔
اس میں پانچ ہزار میرینز اہلکار اور جنگی جہازوں کے ہمراہ ملاح شامل ہوں گے۔

امریکہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلابِ کے ’اہم رہنماؤں‘ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک کے انعامات کی پیشکش کی ہے۔ تاہم اس پیشکش کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دس میں سے چار رہنماؤں کے نام تک اشتہار میں شامل نہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس میں خاص طور پر 10 افراد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف چھ کے نام ظاہر کیے گئے ہیں جن میں نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی شامل ہیں۔
لاریجانی کو جمعہ کے روز تہران کے وسطی علاقے میں ایک ریلی میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مختلف فوجی شعبوں کی کمان اور رہنمائی کرتے ہیں۔
امریکہ کے سی بی ایس نیوز کو دو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ کی جانب ایک میرین یونٹ اور اضافی جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
اس حوالے سے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت امریکی بحری جہاز اور ایک میرین یونٹ کو جاپان سے مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ تعیناتی میں تقریباً پانچ ہزار میرینز اہلکار شامل ہوں گے، جن کے ساتھ جنگی جہاز اور بحریہ کے ملاح بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتہ کو علی الصبح کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے مزید چھ ڈرون مار گرائے ہیں، جنہیں ملک کے مختلف علاقوں میں روکا گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق پانچ ڈرون مملکت کے مشرقی علاقے میں تباہ کیے گئے، جبکہ ایک اور ڈرون کو صحرائی علاقے ربع الخالی Empty Quarter کے اوپر مار گرایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے اہم جزیرے خارک (Kharg Island) پر واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، تاہم وہاں موجود تیل کے انفراسٹرکچر کو حملے میں شامل نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر کے مطابق حملے میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو فی الحال محفوظ رکھا گیا ہے۔
خارک جزیرہ خلیج کے شمالی حصے میں ایرانی شہر بوشہر کے قریب واقع ہے اور ایران کی تیل معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں جہاں خام تیل کو ٹینکروں میں لوڈ کر کے خلیج، آبنائے ہرمز اور پھر عالمی منڈیوں، خصوصاً چین، کی طرف بھیجا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے خارک جزیرے کو ایران کا “کراؤن جیول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی توانائی کے نظام میں انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی امریکی حملوں میں جزیرے کی فوجی تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں تو اس سے مستقبل میں امریکی افواج کے لیے جزیرے پر ممکنہ فوجی کارروائی یا کنٹرول حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ ایسی کسی پیش رفت کی صورت میں امریکا ایران کی تیل برآمدات پر اہم دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔