جنگ کا دوسرا ہفتہ- 8 سے 16 مارچ: آبنائے ہرمز کی بندش امریکہ کیلئے مشکل بن گئی
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی تازہ ترین معلومات
فجیرہ بندرگاہ پر ہفتہ 14 مارچ کو حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہایران جنگ تب ختم ہو گی جب مجھے ٹھیک لگے گا ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کب یہ احساس ہو گا کہ ایران جنگ ختم ہو چکی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’جب مجھے ٹھیک لگے گا۔ صحیح ہے؟‘ مجھے یہ (جنگ) اپنے اندر محسوس ہوتی ہے۔‘
ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ زخمی ہیں۔ لیکن وہ شاید کسی حالت میں زندہ رہیں گے۔‘
آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ تیل کے ٹینکروں کو سکیورٹی فراہم کرے گا۔ ’امید ہے چیزیں ٹھیک چلیں گی۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
ایران میں ہونے والے نقصان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں شدت سے نشانہ بنائیں گے۔ ہم نے انھیں اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ انھیں تعمیر نو میں کئی سال لگیں گے۔‘
خلیجی اتحادیوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ’اتحاد عظیم ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آج اکثر خلیجی رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔ ’وہ اپنا اچھا دفاع کر رہے ہیں۔
امریکہ کے حملوں کے باوجود ہر رمضان کی طرح اس رمضان بھی ایران میں یوم القدس کی ریلیاں نکالی گئیں۔ جنگ کے دوران بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ریلیوں میں شرکت کی۔
ایران کے پریس ٹی وی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی نشر کی۔
Iran’s President Pezeshkian attends International Quds rallies in Tehran, takes selfies with people attending the event.
Follow: https://t.co/mLGcUTS2ei pic.twitter.com/CET2mQFAli
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 13, 2026
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایک حالیہ مشترکہ پریس کانفرنس نے بائیڈن انتظامیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور تزویراتی مشکلات کو آشکار کر دیا ہے۔ میڈیا کے سخت سوالات کے دوران وزیر دفاع دفاعی پوزیشن پر نظر آئے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جارحانہ بیان بازی کا سہارا لیا۔
پریس کانفرنس کے دوران جب پیٹ ہیگستھ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایرانی مزاحمت اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں سوالات کیے گئے، تو انہوں نے حقائق کا جواب دینے کے بجائے میڈیا کو ہی ہدف بنا لیا۔ انہوں نے صحافیوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو ’محبِ وطن‘ ہونا چاہیے اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایرانی فوج کو تباہ کر رہے ہیں۔
ایرانی حکومت پر لفظی حملہ کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ
ایرانی حکومت اب جب آسمان کی طرف دیکھتی ہے تو اسے ‘سٹارز اینڈ سٹرائپس’ (امریکی پرچم) اور ‘سٹار آف ڈیوڈ’ (اسرائیلی پرچم) نظر آتے ہیں، جو ان کا بدترین ڈراونا خواب ہے۔
ایران کے روایتی ہتھیار اور اسلحہ خانے تباہ کیے جا رہے ہیں، ایرانی قیادت زمین کے نیچے ’چوہوں‘ کی طرح چھپی ہوئی ہے۔
جارحانہ لہجے کے باوجود، پیٹ ہیگستھ دو انتہائی اہم اسٹریٹجک معاملات پر واضح جواب دینے میں ناکام رہے۔ جب ان سے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو ان کے جوابات غیر واضح اور ’گول مول‘ تھے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے بہت قریب ہے تاہم انھوں نے جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی ڈیڈلائن نہیں دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار صدر ٹرمپ نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت شدید دباؤ میں ہے اب وہاں شاید ہی کوئی ایسا اعلیٰ عہدیدار باقی رہ گیا ہو جو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرسکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال اب بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور کمرشل جہازوں کو دوبارہ اس راستے سے گزرنے کے لیے آپریشن شروع کرنے چاہئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکا کو یقین دلایا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرے گا۔
جی سیون رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر ایران جنگ ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جلد از جلد جنگ ختم کرکے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جائے کیونکہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
واشنگٹن :امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زخمی‘ ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کل مجتبیٰ خامنہ ای کا پڑھا گیا تحریری بیان یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس میں کوئی ویڈیو یا آڈیو کیوں نہیں تھی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے آپ جانتے ہیں کیوں۔‘
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ مجتبیٰ ’خوفزدہ‘ اور ’زخمی‘ ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ ’چھپتے پھر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کی تعداد 90 فیصد کم ہو چکی جبکہ اس کے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز 95 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے مصروف تیل برداری کا راستہ ہے، میں ’انتہائی مایوسی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ ’کچھ ایسا ہے جس سے ہم نمٹ رہے ہیں۔‘
پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت کی فوج کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کی فوج کو ’جنگ کے قابل نہ رہنے والی‘ بنا دیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی فضائی افواج کا امتزاج ’ناقابلِ شکست‘ ہے اور ان کی انٹیلیجنس ’مزید بہتر اور باریک بینی سے تیار‘ ہو رہی ہے۔
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس فضائی دفاع ہے نہ ہی بحریہ، اور اس کے میزائل لانچرز تباہ کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج ’ایران کی فضاؤں پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہو گی۔
لندن:برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث بحری ٹریفک محدود ہو گئی ہے۔
ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اس راستے میں جہاز رانی کو روکیں گے۔ رات گئے امریکہ نے تاحال روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا۔
یویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات ’طویل عرصے سے‘ دیکھے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک اپنے ’طرزِ عمل‘ اور ’حربوں‘ میں مماثلت دکھاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ریاستیں کس طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مل کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ عالمی معیشت کو ہائی کیا جاسکے۔
یویٹ کوپر نے سعودی صحرا میں برطانوی فوج کے ایئر ڈیفنس یونٹ کا دورہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ رائل آرٹلری کے فوجیوں کا یہ دستہ سعودی عرب اور اس کے خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے برطانیہ کے جاری دفاعی عزم کا حصہ ہے۔
استنبول:ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران سے داغا گیا ایک میزائل نیٹو کے ’اثاثوں‘ نے تباہ کر دیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک ہتھیار جو ترک فضائی حدود میں داخل ہوا، اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی اثاثوں نے ناکارہ بنا دیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک اور اس کی فضائی حدود کے خلاف خطرات کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات پُرعزم طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔
تہران:ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی تہران میں زوردار دھماکوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
ہزاروں ایرانی یومِ القدس کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں مارچ میں شریک ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کچھ دھماکوں کی آوازیں اس مقام کے قریب سنائی دیں جہاں یہ مظاہرہ جاری ہے۔
ایران میں یومِ القدس رمضان کے مقدس مہینے کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے فلسطینی مقصد کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کے اظہار کے طور پر قائم کیا تھا۔
تہران کے مرکزی انقلاب سکوائر کے قریب بنائی گئی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں دھوئیں کا بادل دکھائی دیتا ہے۔
فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ مارچ کرنے والے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے اس سے قبل اس علاقے کے قریب انخلا کی وارننگ جاری کی تھی جہاں یہ ریلی منعقد ہو رہی تھی۔
عمان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صحار کے الاواحی صنعتی علاقے میں ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک دوسرا ڈرون بھی صحار کے ایک کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ دنیا آج مختلف یوم القدس کا مشاہدہ کرےگی۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ القدس کی آزادی قریب ہے، فتح آزادی کے متلاشیوں اور مظلوموں کی دسترس میں ہے، آپریشن وعدہ صادق 4 کی 44ویں لہر آج صبح القدس کے شہداء کی یاد میں داغی گئی۔
ایرانی گارڈز کے مطابق پانچواں امریکی بحری بیڑہ اور امریکی اڈے بابرکت رمضان کی تئیسویں صبح نشانہ بنائے۔
دبئی میں جمعہ کی صبح کاروباری علاقے پر دھویں کے بادل چھا گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد ملبہ گرنے سے آگ لگی۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں۔
🚨 BREAKING: An Iranian drone strike reportedly hit a building in the Dubai International Financial Centre (DIFC) earlier today, sending smoke rising over the heart of Dubai’s financial district.
Authorities have not yet confirmed casualties as emergency crews responded to the… pic.twitter.com/JfzGJYOirJ
— The War Journal (@Thewarjurnal_) March 13, 2026
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز نے جمعے کی علی الصبح شمالی حصے میں واقع ایک گاؤں پر میزائل گرنے سے درجنوں افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ایم ڈی اے (ماگن ڈیوڈ ادوم) ایمبولینس سروس نے کہا کہ طبی عملے نے 58 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور انھیں ناصرہ کے قریب واقع مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک خاتون جنھیں میزائل کا ایک نوکدار ٹکڑا لگا، وہ قدرے زخمی ہیں جبکہ باقی 57 افراد کو شیشے کے ٹکڑوں سے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کے اہلکاروں کو جائے وقوع پر بھیج دیا گیا ہے۔
شمالی اسرائیل میں عمارت پر میزائل گرنے سے 19 افراد زخمی ہوئے۔
24 گھنٹوں کے دوران ایرانی حملوں میں 200 سے زائد صیہونی زخمی ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’حزب اللہ کے انفرسٹرکچر‘ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک تازہ بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ااسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال ہونے والے متعدد کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات ‘عارضی طور پر معطل’ کر دی گئی ہیں
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ائیرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
میزائل حملوں سے ائیرکرافٹ کیریئر کو نقصان پہنچا ہے۔تاہم امریکہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی
امریکہ نے اپنا دفاعی سسٹم تھاڈ جنوبی کوریا سے اسرائیل منتقل کردیا ہے
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے جنوب میں پیونگٹائیک شہر میں واقع امریکا کے اوسان ایئر بیس سے دفاعی سامان منتقل کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق متعدد امریکی فوجیوں کو بھی جنوبی کوریا سے مشرق وسطٰی منتقل کیا گیا ہے۔
خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خطے کی تیل اور گیس تنصیبات کو آگ لگانے کی دھمکی دیدی۔
ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے کی تیل اور گیس تنصیبات کو آگ لگا دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی بجلی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو پورا خطہ اندھیرے میں ڈبو دیا جائے گا۔
سعودی وزارت دفاع نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران فضائی حدود کی خلاف ورزی پر 28 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
روسی میڈیا کے مطابق میزائل اور ڈرون تل ابیب کے مرکز اور امریکی فوج کے اڈوں کی جانب داغے گئے۔
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریان ائیرپورٹ پر افراتفری مچ گئی۔
میزائل ڈرون تل ابیب میں امریکی فوجی اڈوں پر داغے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق افراتفری کے دوران ائیرپورٹ پر موجود افراد نے کاؤنٹر پر کھڑے عملے سے ہاتھا پائی کی اور چیزیں پھینکی جبکہ جواب میں عملہ بھی ایسا ہی کرتا نظر آیا۔
لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں رات سے اب تک 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔
جاری حملوں میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 687 ہوگئی جن میں 90 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی وسیع پیمانے پر نئے حملے شروع کردیے، رات گئے تہران اور دیگر شہروں میں دھماکے سنے گئے۔
عراق کے اربیل میں واقع پیشمرگہ بیس پر حملے میں متعدد فرانسیسی فوجی زخمی ہوئے تھے تاہم اب ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ کردستان علاقے میں حملے میں کئی فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اس کا ایک طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔ تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مغربی عراق میں ’دوستانہ فضائی حدود‘ میں ’ریسکیو کی سرگرمیاں‘ جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسرائیل کی جانب سے تہران حکومت کو گرانے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے بعد ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ،ایران سے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے ایک مثال دیتے ہوئے کہاکہ آپ کسی کو پانی تک تو لے جا سکتے ہیں، لیکن اسے پینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل فضائی حملوں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کر رہا ہے تاکہ ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کا موقع مل سکے۔
نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایرانی عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، کیونکہ بالآخر کسی بھی حکومت کو اندر سے ہی گرایا جاتا ہے، لیکن اسرائیل اس میں مددضرور کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکومت نہیں بھی گرتی، تب بھی وہ اتنی کمزور ہو جائے گی کہ پہلے کی طرح خطرہ نہیں رہے گی۔ ان کے بقول، ایران اب وہ بڑا بدمعاش نہیں رہا جس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے یا جس کے خلاف کوئی متحد نہ ہو سکے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ اسرائیل ختم ہو گیا، لیکن آج اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ایک علاقائی طاقت بن کر ابھرا ہے جس نے اپنے دشمنوں (ہٹلر نما کرداروں) کو ختم کیا ہے۔
جب ان سے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ میں دہشت گرد تنظیموں کے کسی بھی رہنما کے لیے لائف انشورنس پالیسی (زندگی کی ضمانت) نہیں لوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس اس مہم کے لیے ابھی بہت سے سرپرائزز باقی ہیں اور صورتحال توقع سے بہتر جا رہی ہے۔