ایران کی جنگ سے پاکستان کیسے متاثر ہو رہا ہے
مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں جنگ کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے
پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں جنگ کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، اس کے ساتھ پیداواری و فریٹ اخراجات میں اضافے کے باعث برآمدات کی مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے ماہانہ ڈیولپمنٹ آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے، جو پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سٹریٹجک آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ ہے۔
مزید برآں مشرقِ وسطیٰ کو کی جانے والی برآمدات، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 11 فیصد ہیں، خطے میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر تنازع طویل ہو گیا تو ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ تقریباً 45 سے 50 لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور یہی ممالک پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی ترسیلاتِ زر کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال شرح مبادلہ کے استحکام، سرمایہ کاری کی آمد اور مالیاتی دباؤ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے کہا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو توانائی کے ذرائع میں تنوع، برآمدات میں سہولت کاری کو مضبوط بنانے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی شعبے کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران پاکستان کی معیشت میں قابلِ ذکر استحکام دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ محتاط اور مربوط معاشی پالیسیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران اوسط مہنگائی میں کمی آئی، تاہم فروری 2026 میں بجلی کی قیمتوں میں رد و بدل کے باعث عارضی اضافہ دیکھا گیا۔ اسی عرصے میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی تا دسمبر کے دوران مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں کمی دیکھی گئی تھی، جو معاشی سرگرمیوں میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ تعمیرات اور آٹوموبائل کے شعبوں میں بھی مضبوط رفتار دیکھی گئی۔ اشیا اور خدمات کی برآمدات مستحکم رہیں، جس میں خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی نے مدد دی۔ معیشت کی بحالی کے ساتھ درآمدات میں بھی اضافہ ہوا جبکہ ترسیلاتِ زر نے بیرونی شعبے کو سہارا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا اور مالیاتی توازن مثبت ہو گیا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق بیرونی خطرات — خصوصاً جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں — اب بھی معاشی منظرنامے کے لیے منفی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔