ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو اجتماعی شکست کاسامنا، دونوں مکمل بے نقاب ہوگئے، چینی تجزیہ کار
اگر ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ وکٹر گاؤ
چینی تجزیہ کار پروفیسر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا اجتماعی شکست کاسامنا ہے۔
“الجزیرہ “کو انٹرویو میں خارجہ و عسکری امور کے ماہر کا کہنا تھا کہ اگرچہ آپ انہیں ایران کے اندر جارحانہ بمباری کرتے دیکھتے ہیں، لیکن ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے امریکی فضائی دفاعی نظام کو بھی مات دے دی ہے۔امریکہ اور اسرائیل پوری دنیا کے سامنے اس لحاظ سے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ نہ تو پوشیدہ ہے اور نہ ناقابل تسخیر۔ وہ بنیادی طور پر بہت زیادہ کمزور ہیں، اور یہ کمزوری صرف دنیا کے سب سے زیادہ جدید عسکری نظام کے سامنے نہیں بلکہ عام حالات میں بھی ہے۔ ایران جیسے ملک نے بھی، جو تقریباً 50 سال سے تنہائی کا شکار ہے، اتنے ہتھیار تیار کر لیے ہیں کہ وہ ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف امریکہ کے بنیادی اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
وکٹر گاؤ کے مطابق جہاں تک امریکی فوج کا تعلق ہے، انہیں ویتنام کے بعد سے دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن شکستیں اٹھانی پڑیں اس لیے امریکہ کو واقعی اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا اسے ہمیشہ جنگ ہی کو اپنے پہلے انتخاب کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس پاگل پن پر مبنی جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔