اسرائیل نے اپنے نقصانات چھپانے کیلئے سخت ترین سنسر شپ نافذ کردی
رپورٹنگ ٹیمیں وڈیو بناتی ہیں اور اسے نشر کرنے سے پہلے حکام کو دکھائی جاتی ہیں
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل میں ہر ایک رپورٹر سے لے کر عام فرد تک ، سب فوجی سنسر کے تابع ہیں۔ قومی سلامتی کی بنیاد پر نافذ یہ ضابطہ سنسر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی رپورٹنگ یا نشریات کو روک دے جو حساس معلومات ظاہر کر سکتی ہوں یا ملکی سلامتی کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق، اسرائیل میں فوجی سنسر کے تحت ایسی تصاویر نشر کرنا ممنوع ہے جن سے انٹرسیپٹر میزائلوں کی جگہ یا ایرانی حملوں کا نشانہ بننے والے فوجی مقامات کا پتا چلتا ہو، خاص طور پر براہِ راست نشریات میں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عام طور پر بین الاقوامی میڈیا کو فوجی سنسر کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب وہ اسرائیلی افواج کے ساتھ ایمبیڈ ہو کر رپورٹنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ رپورٹنگ ٹیمیں ویڈیو بناتی ہیں اور اسے نشر کرنے سے پہلے سنسر کو دکھائی جاتی ہیں۔ سی این این نے امریکی فوج کے ساتھ بھی بعض مشنز یا تربیتی سرگرمیوں میں شرکت سے پہلے ایسے معاہدے کیے ہیں۔
تاہم ایران کے خلاف جنگ میں یہ قواعد مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
سی این این کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے اس جنگ کے دوران میزائل روکنے کے مناظر سمیت بہت سی وڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹیلیگرام چینلز پر ایسی بہت سی وڈیوز مل جاتی ہیں۔ لیکن فوجی سنسر کی توجہ زیادہ تر بین الاقوامی میڈیا پر مرکوز ہے، اور جنگ شروع ہونے کے بعد اس نے پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد، جب حماس نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغے تھے، اس وقت جنوبی اور وسطی اسرائیل کے آسمانوں میں راکٹ روکنے کے مناظر دکھانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اب سنسر نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی براہِ راست نشریات پر پابندی لگا دی ہے۔ سنسر ایسی براہِ راست نشریات سے روکتا ہے جن سے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی درستی ظاہر ہو سکتی ہو۔
اسرائیلی وزیر قومی سلامتی، اتمار بین گوئرنے غیر سیاسی فوجی سنسر کے معاملے کو ایک سیاسی موضوع بنا دیا ہے اور کہا ہے کہ سنسرشپ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے بین الاقوامی میڈیا کے خلاف سختی اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
وزیرِ مواصلات کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں بین گوئر نے کہا کہ پولیس کو کئی مقامات پر بھیجا گیا ہے، جہاں مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا، واقعات کی تحقیقات کی گئیں، اور بعض معاملات میں ہدایات کی خلاف ورزی کے شبہے پر گرفتاریاں بھی کی گئیں۔
اسرائیلی وزیر سلامتی کے مطابق جو کوئی صحافتی رپورٹنگ کے نام پر اسرائیلی شہریوں کو خطرے میں ڈالے گا، اسے پولیس فورس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی رعایت نہیں۔
ایک بھارتی صحافی برج موہن سنگھ نے بھی اسرائیل میں جنگی وقائع نگاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں جنگی صورتحال کے باعث سخت سنسر شپ نافذ ہے اور میڈیا کو ہسپتالوں، زخمیوں یا ہلاکتوں سے متعلق ویڈیوز بنانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق حکام کی جانب سے معلومات کو محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے تاکہ عوامی خوف و ہراس کو کم رکھا جا سکے۔
برج موہن 28 فروری سے 6 مارچ تک اسرائیل میں رہے اور اس دوران انہیں جنگ سے متعلقہ معلومات اور اثرات و نتائج تک رسائی میں شدید مشکلات درپیش رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 100 فٹ گہری پناہ گاہوں میں بھی ایرانی میزائلوں سے اموات ہوئیں لیکن اسرائیلی حکومت ان ہلاکتوں پر پردہ ڈال رہی ہے۔