عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر کو چھو گئی، پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا خدشہ
مارچ کے اختتام تک آبنائے ہرمز بند رہی تو قیمت 150 ڈالر فی بیرل ہو جائے گی، تجزیہ کار
خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے
ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر چلی گئیں اور پیر کے ایک وقت پر یہ قیمت 120 ڈالر فی بیرل کو چھو گئی تاہم پھر کچھ نیچے آئی۔ جزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایران جنگ کے شدت اختیار کرنے کے بعد پیر کے روز عالمی منڈی برینٹ خام تیل کی قیمتیں اچانک تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، برینٹ کو قیمتوں کیلئے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔
تاہم بعد میں کچھ کمی کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 106.23 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 119.48 ڈالر تک بڑھنے کے بعد 101.25 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات اور ترسیلی راستوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ جنگ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات خلیج فارس کے ان علاقوں تک پھیل رہے ہیں جو تیل اور گیس کی پیداوار اور ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے تک آبنائے ہرمز میں پھنسے تیل اور گیس کے ٹینکروں کے حوالے سے مارکیٹ میں قدرے اطمینان پایا جاتا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مارچ کے آخر تک بند رہی تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس اضافے سے پیٹرول، جیٹ فیول اور کھادوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
خلیجی ممالک سے آنے والی توانائی ایشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، جس کے باعث ایشیائی منڈیوں پر اس بحران کے فوری اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ایشیا میں امریکی گیس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ یورپ جانے والے بعض ٹینکروں نے بھی اپنا رخ تبدیل کر لیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2022 کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی ہے اور اس میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ پیر کو ایک ہنگامی اجلاس کریں گے جس میں قیمتوں میں اچانک اضافے سے نمٹنے کے لیے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے مشترکہ اجرا پر غور کیا جائے گا۔ یہ ذخائر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور اس کے 32 رکن ممالک کے پاس بحران کے وقت استعمال کے لیے ہنگامی تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکہ سمیت جی سیون کے کم از کم تین ممالک مشترکہ اقدام کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ برطانوی چانسلر ریچل ریوز بھی اس ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گی جس کی میزبانی فرانس کر رہا ہے۔
توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات ایشیا کی بڑی معیشتوں میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں حکام نے تقریباً 30 برس میں پہلی بار ایندھن کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں کی حد فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی کوریا اپنی توانائی، خام مال اور زرعی ضروریات کے لیے بڑی مقدار میں درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔