533 سال میں پہلا واقعہ:ہسپانوی شخص کاگھوڑے پر6 ہزارکلومیٹر منفرد سفرحج

پہلی بار 24 سال کی عمر میں قرآن پڑھنے کے بعد اسلام کو پہچانا تھا

               

 

ایک ہسپانوی ریٹائرڈ استادنے اسلام قبول کرنے کے بعد اسپین سے مکہ تک گھوڑے پر6ہزارکلومیٹر کا سفر طے کیا جو 500سال میں پہلاواقعہ تھا، ان کا کہنا ہے کہ اس سفر نے انہیں مکمل طور پر آزاد اور پرسکون کر دیا ہے۔

 

گزشتہ 30 سے 40 سال میں تقریباً 40ہزارہسپانویوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ انہی میں سے ایک رافیل ہرنینڈز منچا نے 38 سال قبل اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے روحانی سفر اور اندلس تا مکہ گھوڑے پر کیے گئے اس حج کے بارے میں بتایا جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔

 

رافیل ہرنینڈز نے یہ گفتگو الموناسٹر لا ریال کی ایک مسجد میں کی، جسے دیہی اسپین میں تعمیر کی گئی پہلی مسجد مانا جاتا ہے اور یہ نویں صدی کی ہے۔ اسی جگہ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا تھا اور 13 اکتوبر 2024 کو یہیں سے مکہ کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

 

62 سالہ ہرنینڈز نے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار 24 سال کی عمر میں قرآن پڑھنے کے بعد اسلام کو پہچانا۔تب وہ جغرافیہ کا استاد بننے کے لیے یونیورسٹی کےامتحانات کی تیاری کر رہے تھے۔ تحقیق کے دوران انہیں اسلام کے بارے میں معلوم ہوا۔انہوں نے کہاکہ مسلمان ہونے کا مطلب زندگی کو مقصد دینا، صحیح عمل کرنا اور ایسے اصول اپنانا ہے جو آپ کو صحیح اور غلط کے درمیان انتخاب میں مدد دیتے ہیں۔ہرنینڈز نے اپنا اسلامی نام عبداللہ رکھا۔

 

وہ دو اندلسی مسلمانوں، محمد ڈیل کورل اور عمر پاٹون کے سفر سے متاثر تھے، جنہوں نے 1491 اور 1495 کے درمیان اسپین سے مکہ تک گھوڑے پر سفر کیا تھا۔ ہرنینڈز نے 36 سال پہلے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے پر گہری خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الموناسٹر لا ریال سے اپنے دو دوستوں کے ساتھ سفر شروع کیا، جن کے پاس اپنے گھوڑے تھے، اور ایک امدادی گاڑی بھی ان کے ساتھ تھی۔ آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے 12 ممالک عبور کیے۔

 

انہوں نے بتایاکہ یہ سفر معجزات سے بھرپور، روحانی طور پر شدید اور حیرت انگیز تھا۔ ہم بغیر پیسوں کے نکلے تھے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ خدا کی مدد سے ہم اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

 

533 سال میں کسی نے بھی اسپین سے مکہ تک گھوڑے پر سفر نہیں کیا تھا۔ آخری بار یہ سفر 1491 میں ڈیل کورل اور پاٹون نے کیا تھا۔ ہرنینڈز نے کہا کہ حج پر جانا ہی ایک بڑی خوشی ہے، لیکن گھوڑے پر یہاں سے نکلنا اور آخر میں خانہ کعبہ کو چھونا ایک انتہائی جذباتی تجربہ تھا جس کے بعد زندگی کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔

 

سفر کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل ان کے پیسے ختم ہوگئے اورصرف1500 یورو بچے جو اسپین چھوڑنے سے پہلے ہی ختم ہو گئے۔ لیکن بنول (Buñuel) شہر میں مراکشی مزدوروں نے ان کے لیے2ہزاریورو جمع کیے، فرانس، اٹلی، بوسنیا، سربیا، ترکی اور اردن میں بھی لوگوں نے ان کی بھرپور مدد کی۔

 

ترکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔ جب وہ اپنے گھوڑوں کے لیے تازہ گھاس کی تلاش میں فکر مند تھے، تو ایک بوڑھے شخص نے انہیں اپنے گندم کے سبز کھیت میں گھوڑوں کو چرانے کی اجازت دی، جو اسپین میں ایک ناقابل تصور بات تھی۔

 

ہرنینڈز نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے باشندوں کی بھی تعریف کی اور انہیں دنیا کے بہترین لوگ قرار دیا۔ ترکی میں پانچ ہفتے گزارنے کے بعد، یہ گروپ شام اور اردن ہوتا ہوا مکہ پہنچا۔ وہاں انہوں نے اپنے گھوڑے فروخت کیے اور جہاز کے ذریعے واپس اسپین آ گئے۔انہوں نے کہاکہ میں نے خدا سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اب میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہوں اور سکون سے مر سکتا ہوں۔

 

انہوں نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد انہیں چہرہ، منہ اور ناک تین بار دھونے کا کہتے تھے، جو بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اسلامی وضوسے مشابہت رکھتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسپین کے بہت سے لوگوں کی جڑیں مسلمان ہیں اور اندلس کی تاریخ امن اور ترقی کی علامت تھی۔