ایران کے خلاف امریکی واسرائیلی اتحادی بننے پر مودی’’ٹرمپ کاچھوٹا‘‘ قرار
دورہ تل ابیب نے،تہران اور خلیجی ممالک سے بھارتی تعلقات کی مساوات کو تبدیل کردیا ہے
ٹرمپ اورمودی
اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی اپنے پارلیمان ، کابینہ اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اتحادی بننے پرشدید تنقید جاری ہے اور اسے ٹرمپ کے’ چھوٹے ‘ جیسے الفاظ تک سے پکارا جانے لگا ہے۔
تل ابیب کی خوشنودی کے لیے مقبوضہ کشمیر میںاسرائیل مخالف مظاہروں پر بھی کرفیو جیسی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مقدمات درج کیے گئے ہیں ، بھارت کے لبرل حلقوں نے مودی کو باور کرایا ہے کہ ایران مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ بھارتی موقف کا حامی ہے اس لیے اس کا ساتھ دینا چاہیے مگر اس کے بجائے بلیک میل ہوکرٹرمپ اور اسرائیل جیسا انتہا پسندانہ ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے ان فاشسٹوں کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے ۔
مودی کی اسرائیل نواز پالیسیوں پر بھارتی ذرائع ابلاغ حکومت کے فیصلوں کو غیر دانشمندانہ قرار د ے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مودی کے اقدامات سے بھارت شدید معاشی دباؤ میں آرہا ہے ، صرف ایک ہفتے کے دوران بھارتی تجارت خاص طور پر زرعی اشیاءکی برآمدمیں ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ دیگر اشیا الگ ہیں ، اسی دوران ایران اپنے وسائل میں رہتے ہوئے دنیا کی آنکھیں کھول چکا ہے، امریکہ کو منہ توڑ جواب مل رہا ہے تواسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاچکی ہے ، اس میں ایران پوری طرح کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہوتا لیکن حالات وواقعات امریکہ اور اسرائیل کے بڑے نقصان کی نشاندہی کررہےہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ ” اصل صور ت حال اور نقصان کی تفصیلات بیان کرنے کی اجازت ادھر ہے نہ ادھر ہے تاہم جیسے ہی گرد بیٹھے گی،اصل حالات سامنے آجائیں گے۔ جس کی کچھ منظر کشی اسرائیل میں ایرانی کلسٹر بموں سےتباہی کی سنسرڈ تصاویر سے ہورہی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سخت گیر پالیسی نافذ کی اور پھر زچ ہوکر یا بلیک میل ہوکر مودی نےامریکہ سے تیل خریدنے کا معاہدہ کیا جو اسے ایران کی نسبت مہنگا ملے گا اور بھارتی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا ۔نئے معاہدے کے تحت نئی دہلی نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ روسی تیل بھی براہ ِ راست یا بالواسطہ بند کردے گا۔
مودی کے اقدامات بھارت کی متوازی پالیسیوںکے برعکس ہیں ، ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں تو دوسری جانب خلیجی ممالک میں بھی دو طرفہ تجارت کا حجم ڈیڑھ سے دو سو ارب ڈالر کے درمیان ہے اور ان ممالک نے بڑے پیمانے پر بھارت کے ساتھ سرمایہ کار ی کے وعدے کررکھے تھے ۔
حالیہ بھارتی اقدامات نے صورتحال خراب کردی ہے اور خاص طور پر مودی کے دورہ اسرائیل نے بھارت کی ایران و خلیجی ممالک سے تعلقات کی مساوات کو تبدیل کردیا ہے ۔ ایک بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ جو کچھ ایران کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل نے تصور کیا تھا وہ منہ کی کھانے کے مساوی ہے اور ایرانی فوج نے ایسےجوابی وار کیے ہیں جو سو فیصد نشانے پر نہ بھی بیٹھے ہوں لیکن امریکہ اور اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔آنے ولے دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کو کس قدر ہزیمت اٹھانا پڑ سکتی ہے، یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ایران ہمت کے ساتھ دونوں کا غرور توڑنے کیلئے کوشاں ہے اور امریکہ و اسرئیل ایک طرح سے دنیا کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔بھلے ایران کو بہت نقصان پہنچاہو لیکن اس نے امریکی اور اسرائیلی ہٹ دھرمی کےسامنے جھکنے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت نئی دہلی میں ٹرمپ اور اسرائیلی پالیسی کو اہمیت دی جارہی ہے جو غیر دانشمندانہ ہے اور اسرائیل کی انسانیت کشی پر احتجاج کرنا بھی جرم بنادیا گیا ہے۔اس حوالے سے بھارتی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ کشمیرمیں جاری کرفیو جیسی پابندیوں کا حوالہ دیا ہے جہاں اسرائیل کیخلاف احتجاج و افسوس کرنے والوں کی آواز دبانے کیلئے پابندیاں لگائی گئی ہیں جوکرفیو جیسی صورتحال ہے اوراسے ایک ہفتے سے زائد گذر گیا ہے ،خصوصاً سری نگر میں یہ پابندیاں سب سے زیادہ سخت ہیں جہاں سابق میئر جنید عظیم متو اور رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے خلاف امن و امان برباد کرنے کی کوشش،غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں جن کی مذمت میں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نےمودی کی منافقانہ پالیسی بے نقاب کرتے ہوئے
یاد دلایا ہے کہ ایران کے ساتھ بھارت کے قریبی اور ایسے دوستانہ تعلقات رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پراس نے ہمیشہ پاکستان کے بجائے بھارتی موقف کا ساتھ دیا حالانکہ اس کے برعکس باقی تمام مسلم ملک ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔
مفتی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اگر مشکل میں گھرا ہے تو اس کا ساتھ دینا چاہئے اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایران نے پابندیوں کے باوجود تیل فراہم کیا ۔ اب جب ایران پر مشکل وقت آیا ہے تو اس کے حق میں بھارتی قیادت خاموش ہے۔محبوبہ مفتی نے دونوں اہل تشیع رہنماؤں جنید عظیم متو اور آغا روح اللہ مہدی کے خلاف مقدمات واپس لینے پر بھی زوردیا ہے ۔ ان کے مطابق مودی صرف اور صرف منافقانہ اور متشدد پالیسی پر چل رہے ہیں جس کانقصان بھارت کو پہنچ رہا ہے۔