25 ارب ڈالر کا پیکج: پاکستان نے سعودی عرب سے کیا 8 مطالبات کیے
قرضوں اور لین دین میں تعاون مانگا گیا، سعودی عرب سے ترسیلات زر کو قرض کی ضمانت بنایا جائے گا
ستمبر 2025 میں پاک سعودی دفاعی معاہدے پر دستخط کے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بغل گیر ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے مالی دباؤ کم کرنے کیلئے سعودی عرب سے آٹھ بڑے معاشی مطالبات کیے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 25 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان مطالبات کی تفصیل ذرائع سے سامنے آئی ہے۔ سرکاری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔۔
پاکستان نے سعودی عرب کے سامنے آٹھ نکات پر مشتمل ایک مالیاتی پیکیج رکھا ہے جس کا مقصد فوری معاشی دباؤ کم کرنا، بیرونی ادائیگیوں کو سنبھالنا اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی آسان بنانا ہے۔ ہر مطالبہ نہ صرف مالی مدد کی درخواست ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت کس نوعیت کے دباؤ سے گزر رہی ہے۔
پہلی درخواست یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں موجود سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو قلیل مدتی رکھنے کے بجائے دس سالہ سہولت میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اس رقم کو جلد واپس کرنے کا دباؤ ختم ہو جائے اور اسے طویل عرصے تک مالی سہارا حاصل رہے۔ یہ دراصل نئی رقم مانگنے کے بجائے موجودہ مالی سہولت کو زیادہ محفوظ اور طویل المدتی بنانے کی کوشش ہے۔
دوسری درخواست میں پاکستان نے مؤخر ادائیگی پر ملنے والے سعودی تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنے اور ادائیگی کی مدت ایک سال کے بجائے تین سال تک بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان تیل تو فوری طور پر حاصل کرے گا لیکن اس کی ادائیگی طویل عرصے بعد کرے گا، جس سے وقتی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
تیسری تجویز میں پاکستان نے بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر کو بنیاد بنا کر 10 ارب ڈالر تک کی سیکیورٹائزیشن کی سہولت حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں آنے والی ترسیلات زر کو ضمانت بنا کر ابھی قرض حاصل کیا جائے۔ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں اور گزشتہ مالی سال میں انہوں نے تقریباً 7.4 ارب ڈالر پاکستان بھیجے تھے۔
چوتھی درخواست کے تحت پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سکوک بانڈز جاری کرنے کیلئے سعودی عرب سے ضمانت فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنی کریڈٹ ریٹنگ کی وجہ سے تنہا کم شرح سود پر قرض حاصل نہیں کر پا رہا، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اس کی ضمانت دے تاکہ عالمی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ فراہم کریں۔
پانچویں نکتے میں پاکستان نے نئے قائم ہونے والے ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank) کے لیے سعودی عرب سے رعایتی کریڈٹ لائن کی درخواست کی ہے۔ اس بینک کا مقصد پاکستانی برآمدات کو مالی سہارا دینا ہے، مگر اس کے لیے بھی ابتدائی سرمائے کی ضرورت ہے۔
چھٹے مطالبے میں پاکستان نے سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کو پاکستان کے معاشی ڈھانچے اور مختلف اثاثوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بنیادی معاشی منصوبوں، توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔
ساتویں درخواست میں پاکستان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ پاکستانی درآمدی لین دین کیلئے درکار بینک گارنٹی کی شرائط ختم یا نرم کی جائیں۔ اس وقت بہت سے بین الاقوامی تجارتی لین دین میں پاکستانی کمپنیوں کو زیادہ سخت مالی ضمانتیں دینا پڑتی ہیں کیونکہ انہیں زیادہ کریڈٹ رسک سمجھا جاتا ہے۔
آٹھویں اور سب سے سیاسی اہمیت رکھنے والی درخواست میں پاکستان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ پاکستان کے جاری پروگرام میں اس کی حمایت کرے، خاص طور پر بجٹ خسارے اور پرائمری سرپلس کے اہداف میں کچھ نرمی حاصل کرنے کیلئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات میں اس کیلئے سفارتی اور مالی اثر و رسوخ استعمال کرے۔