خلیج وارزون میں کن ملکوں سے کتنے کروڑلوگ خطرات کی زدپر ہیں؟

غیر ملکی کارکنوں کی کئی نسلیں ان ملکوں کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں

               
March 10, 2026 · امت خاص

خلیجی ملکوں کے پرچم

 

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ ممالک میں رہنے والے تقریباً 6 اعشاریہ 2 کروڑ افراد ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ممکنہ خطرات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ معاشی مواقع کے لیے مشہور ان ممالک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

 

یہ ممالک دنیا بھر سے آنے والے تقریباًساڑھے تین کروڑ غیر ملکی کارکنوں کی میزبانی کرتے ہیں، جن کی بڑی تعداد جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ سعودی عرب اور عمان کے علاوہ باقی چار جی سی سی ممالک میں غیر ملکی آبادی کا تناسب مقامی شہریوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

 

غیر ملکی کارکنوں کی کئی نسلیں خلیجی ممالک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میں مزدور، تعمیراتی کارکن، گھریلو ملازمین، سکیورٹی اور صفائی عملے کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔ جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ان کارکنوں کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ بینکنگ، فنانس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ہوا بازی، طب اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں بھی غیر ملکی ماہرین طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی گلوبل میڈیا انسائٹ کے مطابق جی سی سی کے چھ ممالک میں مقیم غیر ملکیوں کو دس بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سب سے بڑی تعدادبھارتی شہریوں کی ہے جو تقریباً 91 لاکھ ہیں۔ اس کے بعدبنگلہ دیش کے تقریباً50 لاکھ شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔پاکستان کے تقریباً 49 لاکھ،مصر کے 33 لاکھ،فلپائن کے 22 لاکھ،یمن کے22 لاکھ،سوڈان کے 11 لاکھ،نیپال کے12 لاکھ،شام کے تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار اورسری لنکاکے تقریباً ساڑھے 6 لاکھ شہری خلیجی خطے میں کام کر رہے ہیں۔

 

جی سی سی کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب ہے جس کی مجموعی آبادی تقریباً3 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ اس میں مقامی شہریوں کی تعداد تقریباً اڑھائی کروڑ، غیر ملکیوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 64 لاکھ ہے۔ غیر ملکیوں میں26 لاکھ بنگلہ دیشی، 23 لاکھ بھارتی اور تقریباً 22 لاکھ 30 ہزار پاکستانی شامل ہیں۔

 

متحدہ عرب امارات کی کل آبادی تقریباًایک کروڑ 13 لاکھہے۔ یہاں مقامی اماراتی شہری صرف12 فیصدہے اور88 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ ان میں 43 لاکھ 60 ہزار بھارتی، 19 لاکھ پاکستانی اور تقریباً ساڑھے 8 لاکھ بنگلہ دیشی ہیں۔

 

کویت کی مجموعی آبادی تقریباً 37 لاکھ ہے جس میں15 لاکھ 60 ہزار کویتی شہری اور تقریباً21 لاکھ 60 ہزار غیر ملکی ہیں۔ غیر ملکیوں میں 10 لاکھ بھارتی، 7 لاکھ مصری اور تقریباً ساڑھے 3 لاکھ بنگلہ دیشی شامل ہیں۔

 

عمان کی آبادی تقریباً 47 لاکھ ہے۔ اس میں59 فیصد مقامی شہری اور41 فیصد غیر ملکی شامل ہیں۔ غیر ملکیوں میں7 لاکھ 60 ہزار بھارتی، 7 لاکھ بنگلہ دیشی اور تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار پاکستانی شامل ہیں۔

 

قطر کی آبادی تقریباً 32 لاکھ ہے جس میں88 فیصد یعنی تقریباً 29 لاکھ افراد غیر ملکی ہیں ۔ قطری شہری صرف 12 فیصدیعنی تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ہیں۔ غیر ملکیوں میں 7 لاکھ بھارتی، 4 لاکھ بنگلہ دیشی اور تقریباً 4 لاکھ نیپالی شامل ہیں۔

 

بحرین تقریباً 15 لاکھ 80 ہزار آبادی کے ساتھ جی سی سی کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہاں مقامی شہری آبادی کا نصف سے کچھ کم ہیں۔ غیر ملکیوں میںساڑھے 3 لاکھ بھارتی، تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنگلہ دیشی اور تقریباً 2 لاکھ پاکستانی شامل ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں غیر ملکی کارکنوں اور ان کے خاندانوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔