سانحہ گل پلازہ:ایمرجنسی سروسز کی ذمہ داری پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی قانونی رائے جمع

سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 بنیادی قانون ہے اور اس کی دفعات دیگر قوانین پر فوقیت رکھتی ہیں

               
March 10, 2026 · قومی

کراچی: ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کو ایمرجنسی سروسز کی ذمہ داری کے حوالے سے اپنی قانونی رائے خط کے ذریعے جمع کروائی ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت ہنگامی حالات میں ریسکیو کی بنیادی ذمہ داری سندھ ریسکیو سروس کی ہے، جبکہ سٹی اور ڈسٹرکٹ حکومتیں صرف معاون کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 کے مطابق مرکزی ہنگامی رسپانس سسٹم قائم کیا گیا ہے جو پورے سندھ میں ریسکیو اور ایمرجنسی خدمات کا اختیار رکھتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق سندھ ایمرجنسی کونسل ادارے کی نگرانی اور پالیسی سازی کرتی ہے اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈز کے قیام اور ان کی ذمہ داریوں کا تعین بھی اسی کونسل کے تحت ہوتا ہے۔ ریسکیو آپریشن کا کمانڈ سسٹم کونسل سے شروع ہوتا ہے، پھر ڈائریکٹر جنرل اور آخر میں ضلعی یونٹس تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلدیاتی ادارے صوبائی قانون کے تابع ہیں اور ہنگامی ریسکیو آپریشن میں صرف انتظامی اور لاجسٹک معاونت فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ شہری اور ضلعی حکومتیں مقامی انتظامیہ سے رابطے اور وسائل کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ ریسکیو سروس ایکٹ 2023 بنیادی قانون ہے اور اس کی دفعات دیگر قوانین پر فوقیت رکھتی ہیں، تاہم قانون کا مقصد دیگر اداروں کو اپنی قانونی ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دینا نہیں ہے۔