اخلاقیات کا جنازہ ، انسانی زندگیوں پر بھی شرطیں لگنے لگیں

ایران کے سپریم لیڈر کے حوالے سے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر لگنے والی شرطیں اس کی واضح مثال ہیں۔

               
March 10, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کرکٹ کی دنیا میں سٹے بازی سے تو سبھی واقف ہیں۔ نو بال، چوکے اور چھکوں پر لگنے والی شرطیں۔۔۔لیکن کیا آپ نے سوچا تھا کہ جنگ کے مختلف مراحل پر بھی اسی طرح شرطیں لگیں گی۔جی ہاں۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ بڑھ رہا تھا تو ایک عجیب بازار گرم ہو گیا تھا۔

کرکٹ میں نو بال یا چھکے پر شرط لگانا تو پرانی بات ہو گئی، اب دنیا کے بدترین جنگی تنازعات ایک “آن لائن بازار” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک ایسا منظر نامہ سامنے آیا ہے جہاں لوگ اسکرینوں کے پیچھے بیٹھ کر اس بات پر پیسے لگا رہے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کب کرے گا؟ کیا ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کر دے گا؟کیا امریکی بوٹ ایرانی سرزمین پر قدم رکھیں گے؟

یہ محض خیالی سوالات نہیں بلکہ پولی مارکیٹ پر موجود وہ “شرطیں” ہیں جن میں لاکھوں ڈالرز کا لین دین ہو رہا ہے۔

صرف جنگ ہی نہیں، بلکہ ایران کی داخلی سیاست اور قیادت کی تبدیلی پر بھی جوا کھیلا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے حوالے سے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر لگنے والی شرطیں اس کی واضح مثال ہیں۔ کسی وقت ان کے جانشین بننے کے امکانات 80 فیصد دکھائے جا رہے تھے جو اچانک گر کر 45 فیصد پر آ گئے۔ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی تجزیے کا نتیجہ نہیں بلکہ جواریوں کی لگائی گئی رقم کا عکس ہیں۔

جہاں ایک خاندان کے لیے میزائل کا گرنا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، وہاں کسی تیسرے شخص کے لیے یہ صرف ایک ‘جیتنے والی شرط’ ہے۔

اس بازارِ ہوس میں سب سے بڑا خطرہ ‘انسائیڈر ٹریڈنگ’ (Insider Trading) کا ہے۔ اگر کسی فوجی افسر یا سرکاری اہلکار کو پہلے سے معلوم ہو کہ حملہ کب اور کہاں ہونا ہے، تو وہ اس خفیہ معلومات کو شرط جیتنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ حال ہی میں ایسے الزامات سامنے آئے ہیں کہ کچھ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے حساس فوجی معلومات کی بنیاد پر ان مارکیٹس میں پیسہ کمایا۔

یہ پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) بظاہر مستقبل کی پیشگوئی کا ایک جدید طریقہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ انسانی بے حسی کا وہ آئینہ ہیں جہاں معصوموں کے خون اور پناہ گزینوں کی آہ و بکا کو ڈالرز میں تولا جاتا ہے۔