امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ

مقاصد حاصل کرنے میں جارحیت کی ناکامی کے بعد واشگنٹن اور تل ابیب کا بیانیہ

               
March 11, 2026 · امت خاص

ٹرمپ اور نیتن یاہو

 

 

ایران نے ایک مرتبہ پھر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اعلان کیا کہ ان کا ملک مکمل طور پر تیار ہے اور ہمارے پاس بھی بہت سے سرپرائزز موجود ہیں۔ ادھر اخبار”یدیعوت احرونوت”کے مطابق اسرائیلی فوج کے اندازوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران میں اہداف کا حصول چند ہفتے لے سکتا ہے،انہوں نے امریکی ٹی وی سے گفتگومیں یہ بھی کہا کہ جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو کہا تھاکہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ چھ ماہ تک جنگ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔لیکن عالمی ذرائع ابلاغ کہہ رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے اسرائیل کے اندر ایران کے ساتھ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔

 

امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق متعدد اعلی اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح تصور نہ ہونے اور اس کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان نے خطے اور عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

بعض اسرائیلی حکام جنگ کے نتائج مزید سنگین ہونے سے پہلے سیاسی راستہ تلاش کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب خطے کے ممالک پر ایران کے میزائل حملے جاری ہیں اور عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

عرب میڈیاکے مطابق، فوجی منصوبہ بندی سے باخبر ایک اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ضروری طور پر جنگ کا واحد مقصد نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یقینا ہم نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن یہ جنگ ختم ہونے کا واحد منظرنامہ نہیں۔ اہم فوجی اہداف کی تباہی کے بعد اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہو گا۔عہدیدار نے کہا کہ شاید ایران ہتھیار نہ ڈالے لیکن وہ امریکی شرائط کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کے اشارے دے سکتا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مسلسل مکمل فتح کی بات بھی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

 

ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے اندر سرحد کے قریب حزب اللہ کی رضوان فورس کے باقیات کے خلاف محدود کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل بڑے پیمانے پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا تاکہ 1982کے لبنان حملے کے تجربے سے بچا جا سکے جو بیروت تک پہنچ گیا تھا اور جسے بعد میں بہت سے اسرائیلیوں نے تزویراتی غلطی قرار دیا تھا۔عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل لبنانی حکام بشمول صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام کے ساتھ رابطے کے لیے تیار ہے تاکہ لبنانی محاذ پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا سکے۔

 

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران پر میزائل حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقاصد کے حوالے سے بدلتے ہوئے اور بعض اوقات متضاد بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں،جو اس مرکزی سوال کو جنم دیتے ہیں کہ: واشنگٹن کا اصل ہدف کیا ہے؟

 

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی واضح طور پر حکومت کی تبدیلی (Regime Change)کے الفاظ استعمال نہیں کیے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات کا مقصد موجودہ ایرانی نظام کو گرانا معلوم ہوتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق ایرانی حکومت کا فوری ہتھیار ڈالنا اور عوامی بغاوت ان حملوں کا مقصد تھا۔ سوچ کا محور یہ تھا کہ سربراہ اور جسم کے کافی حصے کو ہٹانے سے نظام یا تو گر جائے گا یا اتنا کمزور ہو جائے گا کہ جو کچھ بھی ابھرے گا وہ ایران کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن کو بحال نہیں کر سکے گا۔حقیقت میں، خامنائی کے علاوہ کئی سینئر فوجی کمانڈروں اور رہنماوں کے مارے جانے کے باوجود، اسلامی جمہوریہ کو قائم رکھنے والے اداروں کے اندر گہرے دراڑ کے اب تک کم ہی ثبوت ملے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ یہ ٹرمپ کی جانب سے ایک غلط اندازہ تھا، کیونکہ انہیںتوقع نہیں تھی اور وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ایران میں ایک طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت اور استقامت موجود ہے۔

 

“آپریشن ایپک فیوری” کی ابتداسے ہی ٹرمپ کے پیغامات سودے بازی اور ایران کی تباہی کے درمیان گھومتے رہے۔ شروع میں، انہوں نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ارکان سے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور معافی کے بدلے ہتھیار پھینک دیں۔ بعد میں، انہوں نے ایرانی سفارت کاروں سے وفاداری تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔لیکن پاسدارانِ انقلاب امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے جوابی حملوں کی قیادت کر رہی ہے، اور دیگر خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کے پیچھے بھی وہی ہے۔ ایرانی سفارت کاروں نے ایک عوامی خط میں ٹرمپ کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ کے نمائندوں کے طور پر اپنے کردار پر قائم ہیں۔

 

پاسدارانِ انقلاب نے ابھی نئے سپریم لیڈر کی مکمل اطاعت کا عہد کیا ہے۔

 

عسکری مبصرین کی رائے ہے کہ اکیلی فوجی طاقت وہ سیاسی نتیجہ فراہم نہیں کر سکتی جو واشنگٹن حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حربے کو اسٹرٹیجک مقصد سے کہیں زیادہ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکہ ایران کا دفاعی سامان تو تباہ کر سکتا ہے، لیکن وہ فضا سے کوئی سیاسی متبادل تیار نہیں کر سکتا۔

 

ایران پر 28فروری کو فضائی حملے شروع کرنے کے بعد، ٹرمپ نے کہاکہ ایران کے عظیم لوگوں سے میں کہتا ہوں کہ آزادی کی گھڑی قریب ہے۔ جب ہم ختم کرلیں گے ، تو آپ اپنی حکومت سنبھال لیں،یہ آپ کی ہوگی۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ترجیح دیں گے کہ ایران کے اندر سے کوئی جنگ کے بعد کی حکومت کی قیادت کرے ،انہوں نے سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کے امکانات کو کم کر دیا، جو دہائیوں سے ایران سے باہر رہنے کے باوجود ملک کی قیادت کے خواہش مند ہیں۔تاہم ٹرمپ نے بعد میں یہ اصرار بھی کیا کہ وہ مجتبیٰ خامنائی کو ایران کے نئے رہنما کے طور پر تسلیم نہیں کرتے اور مطالبہ کیا کہ رہنما کے انتخاب میں ان کا براہِ راست عمل دخل ہونا چاہیے۔ پھر، 6 مارچ کو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے لکھاکہ ایران کے ساتھ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا! انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ہتھیار ڈالنے کے بعد عظیم اور قابلِ قبول رہنمامنتخب کیے جانے چاہئیں۔

 

واشنگٹن کے بدلتے ہوئے مطالبات پر تہران کا ردعمل مستقل رہا ہے: کوئی ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے، بمباری کے سائے میں کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اور باہر سے مسلط کردہ کوئی قیادت قبول نہیں کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنائی کا انتخاب واشنگٹن کے عزائم کو براہِ راست رد کرنا ہے۔ مجتبیٰ کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایران میں طاقت کے حقیقی مرکز کے طور پر اپنا کردار مزید مستحکم کر لیا ہے۔ امریکی مقاصد کے لیے یہ انتہائی ناخوشگوار صورتحال ہے۔ واشنگٹن چاہتا تھا کہ جانشینی کا لمحہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے، لیکن اس نے متحد ہونے کاتاثر پیدا کیا ہے۔

 

ٹرمپ نے مجتبی کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور ایران کے مقتدر حلقوں نے انہیں اسی لیے منتخب کیا کیونکہ دشمن نے انہیں مسترد کیا تھا۔ اگر حکومت کی تبدیلی مقصد تھا، تو یہ تقرری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ اپنے سیاسی پہلو میں پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔

 

ایک اور آپشن جس پر ٹرمپ انتظامیہ غور کر رہی ہے، اس میں کرد افواج کا ایرانی فوج پر حملہ کرنا شامل ہے، تاکہ نظام کے خلاف ایک وسیع تر بغاوت کی راہ ہموار کی جا سکے۔ امریکہ کے عراق میں کرد گروپوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور اربیل کے قریب فوجی موجودگی بھی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر کرد جنگجووں کو تعینات کرنا ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہوگا۔

 

کرد رہنماوں نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے ان کے ساتھ بات چیت کی ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا قدم علاقائی تناو کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایرانی کرد مسلح گروہوں کے پاس کسی حملے جیسی کارروائی کی صلاحیت، اتحاد یا لاجسٹکس موجود نہیں ۔ اور کسی بھی سنجیدہ کرد متحرک ہونے سے ترکیہ کو شدید تشویش ہوگی، جس سے امریکہ کے لیے ایک اور بحران پیدا ہو جائے گا۔

 

ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے زمین پر فوج اتارنے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن ٹرمپ جنگ مخالف پلیٹ فارم پر الیکشن جیتے اور عراق و افغانستان کی جنگوں کے سائے کا مطلب ہے کہ زمینی حملہ صدر کے لیے ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صدر کی سیاسی ضرورتوں اور عراق و افغانستان کی ناکامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، زمینی فوج کا آپشن سب سے کم ممکنہ لگتا ہے۔