3بڑی پالیسی غلطیوں نے ایران کو مشکل میں ڈالا
انقلاب کوبرآمد کرنے کی کوششیں۔اسلامی ممالک سے دوری اور ایئر ڈیفنس سسٹم پر عدم توجہ شامل۔ جاوید صدیق کا تجزیہ
معروف تجزیہ نگار اور سینئر صحافی جاوید صدیق نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا ڈٹ کرمقابلہ کرنے اور تاریخی مزاحمت کے ذریعے منہ توڑجواب دینے کا ایرانی کردار بے مثال ہے۔تاہم ریاستی سطح پر ایران کو اپنی 3بڑی غلطیوں کے نتائج بھگتنے پڑرہے ہیں۔ ایران کی 1979ء کے بعد پالیسیوں کا فوکس انقلاب کو پورے خطے میں ایکسپورٹ کرنے پر رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی دنیا بالخصوص خلیجی ملکوں سے تہران کے تعلقات قابل رشک نہیں رہے اور دوریاں بڑھتی گئیں۔ پورے خطے کو انقلاب کے زیر اثر لانے کی کوششوں کے باعث ایران کے سعودیہ، مصر،قطر، سمیت بہت سے اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات بگڑے۔پھر عراق سے جنگ ہوئی۔ تقسیم گہری ہوگئی۔
” امت ڈیجیٹل ” کے پوڈکاسٹ میں گروپ ایڈیٹر سجادعباسی سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید صدیق نے کہا کہ انقلاب کے بعد ایران ایک مذہبی ریاست میں تبدیل ہوگیا۔مغرب نے اس معاملے پر اس کے خلاف پراپیگنڈاشروع کردیا۔ اس کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام آگیا۔ آئی اے ای اے کو جب پتاچلاکہ افزودگی کی صلاحیت بہت بڑھ گئی ہے تو معائنہ کیاگیا ۔اسرائیل کو ایک مسلسل خوف رہاہے کہ کسی بھی اسلامی ملک کے پاس ایٹمی صلاحیت ہوئی وہ ہمیں تباہ کردے گا، یہ تصوراس کا سنڈروم بن گیا۔
جاوید صدیق نے کہا کہ مصرکے جمال ناصر نے الیگزینڈریا میں ایک پلانٹ لگایا تو اسرائیل نے اس کے جوہری سائنس دانوں کو قتل کرادیا۔ پھر عراقی ایٹمی پلانٹ کو بھی1980ء کی دہائی میں اسرائیل نے تباہ کردیا۔تیسرے مرحلے میں پاکستان کاایٹمی پروگرام ختم کرنے کی کوشش ہوئی جوناکام رہی۔ایران کے ایٹمی پروگرام سے کئی مسلمان پڑوسی ملکوں کو خوف رہا ہے کہ اگر اس کے پاس یہ طاقت آگئی تو یہ ہماراجینادوبھر کردے گا،خلیجی اور دیگر عرب ملکوں میں یہ احساس پیداہوگیاکہ ایران ہمارے لیے ایک خطرہ ہے۔
تجزیہ نگار جاوید صدیق نے اس رائے کودہرایا کہ شام ،لبنان ،یمن میں بھی ایرانی انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی کوششوں کے باعث خلیجی اور دوسرے عرب ملک ایران سے شاکی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے مسلم دنیاسے تعلقات قابل رشک نہیں رہے۔علاوہ ازیں ایران نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم پر توجہ نہیں دی بصورت دیگر آج وہ بہترپوزیشن میں ہوتے ۔یہ کوتاہی ان پر تابڑتوڑحملوں کا راستہ بن گئی۔اندرونی بے چینی اور انتشار کئی بار شورش کی صورت میں سامنے آیا ۔ خامنائی پر حملے کے بعد قوم ایک بارپھرمتحدہوگئی لیکن کردوں اور ایرانی بلوچستان میں سرگرم گروہوں کو امریکی سی آئی اے اکسارہی ہے کہ وہ ریجیم چینج کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔اسی طرح موسادکی ایران میں رسائی اور نفوذ بہت زیادہ ہے۔
ایک سوال پر جاوید صدیق نے کہا کہ بھارت سے ایران کی قربت بہت زیادہ رہی لیکن مودی نے جب دیکھاکہ اسرائیل اور امریکہ ایک ہیں اورہ واشنگٹن کی حمایت بھی حاصل کرناچاہتاہے، اسی لیے حال ہی میں مودی نے تل ابیب کادورہ کیا اور وہاں ایران کی پیٹھ میں چھراگھونپنے کا فیصلہ ہوا ۔ ایران کو ان چیزوں سے سبق سیکھناچاہیے۔تہران کے لیے دفاعی اور سفارتی وخارجہ کمزوریوں پر توجہ دیناضروری ہے۔اگر اسلامی ملکوں سے ایران کے اچھے تعلقات ہوتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی تا ہم امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جس جواں مردی سے ایران نے مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔