اسرائیلی اور ایرانی ذرائع ابلاغ پر مجتبی خامنائی، نتن یاہو کے زخمی ہونے کے دعوے
طرفین کو یقین ہے کہ متحارب فریقوں کے رہنما کم از کم مضروب ضرور ہوئے ہیں
فائل فوٹو
اسرائیل اور ایران کے ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے اعلیٰ رہنما مارے جانے یا کم از کم زخمی ضرور ہونے کے دعوے کر رہے ہیں۔
اسرائیلی سیکورٹی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کے بیٹے اور جانشین، مجتبیٰ خامنائی گزشتہ ہفتے ایک فضائی حملے میں نشانہ بننے کے باوجود زندہ ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وہ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
جریدے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج آئی ڈی ایف کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے نئے ایرانی لیڈر کے تقرر کے عمل سے متعلق سوال پر بتایا کہ اسرائیلی فوج نے منگل کو قم میں اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں 88 رکنی اسمبلی آف ایکسپرٹس موجود تھی۔ دوسری جانب ایرانی اپوزیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کے وقت عمارت غالباً خالی تھی۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا استدلال ہے کہ علی خامنائی کے بعد ، جانشین منتخب کیے جانے کی اطلاعات کے باوجود، مجتبیٰ خامنائی اب تک سامنے نہیں آئے، اور نہ ان کا کوئی بیان جاری ہوا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملہ اس وقت ہوا تھا جب سپریم لیڈر کے لیے رائے دہندگی کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔دریں اثنا، تسنیم نیوز ایجنسی کی عبرانی ویب سائٹ کے مطابق، عبرانی ذرائع میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ممکنہ موت یا زخمی ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حوالے سے درج ذیل اشارے دیے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے ذاتی چینل پر گزشتہ تین دنوں سے کوئی نئی ویڈیو اور چار دنوں سے کوئی تصویر سامنے نہیں آئی، صرف تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں۔
معمول کے مطابق روزانہ ایک سے تین ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں، لیکن حالیہ خاموشی نے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
آٹھ مارچ کو رپورٹس آئیں کہ نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے گرد سیکورٹی، خاص طور پر خودکش ڈرونز کے پیش نظر، مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کا اسرائیل کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جسے اس صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون اور نیتن یاہو کے درمیان فون کال کی تاریخ واضح نہیں کی گئی اور صرف گفتگو کا متن جاری کیا گیا۔
ان قیاس آرائیوں کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔