ایران جنگ سے امریکی معیشت خطرے میں پڑ گئی

تیل کی فراہمی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا

               
March 11, 2026 · امت خاص

امریکی معیشت

 

امریکی معیشت کوایک حقیقی جنگ کی صورت میں معاشی خطرے کا سامنا ہے۔ایران کے ساتھ جنگ نے تیل کی فراہمی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کر دیا ہےجو قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے، پیٹرول اور ڈیزل سے لے کر جیٹ فیول تک ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔امریکی ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ جنگ نے امریکہ کی معیشت میں کساد بازاری کے خطرے کو بڑھا دیا ہے اور یہ بحران جتنا طویل ہوگا،معیشت کے لیے خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا جو مشرق وسطیٰ میں افراتفری سے پہلے ہی کمزور دکھائی دے رہی تھی۔

 

یونیورسٹی آف مشی گن میں معاشیات کے پروفیسر جسٹن وولفرکے مطابق امریکہ کافی عرصے سے کساد بازاری کے دہانے پر کھڑا ہے،اسے گرانے کے لیے صرف ایک دھکے کی ضرورت ہے اور یہ کام تیل کر سکتا ہے۔ پیش گوئی کرنے والی مارکیٹ کالشی (Kalshi) کے مطابق، پیر کے اوائل میںکساد بازاری کے امکانات 35 فیصد تک بڑھ گئے تھے، جب امریکی تیل کی قیمتیں مختصر طور پر 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ یہ امکانات فروری کے آغاز میں تقریباً 20 فیصد تھے، یعنی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی نقل و حرکت سے پہلے کی سطح سے زیادہ۔

 

موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکانومسٹ مارک زانڈی کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل کا پائیدار اضافہ اوسط امریکی گھرانے کو سالانہ تقریباً 450 ڈالر اضافی خرچ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔گھریلو بجٹ پر یہ اثر کلیدی ہے کیونکہ امریکہ صارفین کی بنیاد پر چلنے والی معیشت ہے۔ اگر امریکی خریداری، سفر اور باہر کھانے پینے میں کٹوتی کرتے ہیں، تو کاروبار ملازمین کو نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں صارفین مزید کٹوتی کریں گے۔ یہ ایک ایسا چکربن سکتا ہے جو کساد بازاری پر جاکرختم ہوتا ہےاور آج ملازمتوں کی مارکیٹ 2022 کے مقابلے میں زیادہ کمزور دکھائی دیتی ہے، جب روس کے یوکرین پر حملے سے تیل کی قیمتوں کا جھٹکا لگا تھا۔ اس وقت معیشت میں ماہانہ لاکھوں ملازمتوں کا اضافہ ہو رہا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی معیشت نے پورے 2025 میں صرف 1لاکھ 16 ہزارملازمتوں کا اضافہ کیا، جو 2002 کے بعد کساد بازاری کے بغیر سب سے کم سطح ہے۔ درحقیقت، گزشتہ نو میں سے پانچ مہینوں میں معیشت نے ملازمتیں کھوئی ہیں، حالانکہ اس سے پہلے برسوں تک ایسا نہیں ہوا تھا۔

 

لوگوں کو اپنے ٹیکس ریفنڈز کا ایک بڑا حصہ صرف اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھرنے پر خرچ کرنا پڑے گا۔ دوسرا متعلقہ خطرہ یہ ہے کہ جنگ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا سبب بنے، جس میں امریکی اسٹاکس اپنی سابقہ بلند ترین سطحوں سے 20 فیصد گر جائیں۔ یارڈینی ریسرچ کے صدر ایڈ یارڈینی کے مطابق تیل کو 120 یا 150 ڈالر فی بیرل تک جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ صرف 100 ڈالر پر بھی رہتا ہے اور اسٹاک مارکیٹ کو نیچے دھکیلتا ہے، تو اس کا زیادہ آمدنی والے صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ معاشی مندی سے بچ جائے گا، لیکن پیر کو انہوں نے مارکیٹ کے بیٹھ جانے اور کساد بازاری کے امکانات کو 5 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دیا۔

 

کساد بازاری کا تیسرا راستہ کاروباری اعتماد کو پہنچنے والا بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔یہ دیکھنا آسان ہے کہ وہ مالکان، جو پہلے ہی نئی بھرتیاں کرنے یا کاروبار بڑھانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مزید پیچھے ہٹ جائیں گے۔جے پی مورگن کے کیلی نے کہاکہ گزشتہ جمعہ کی ملازمتوں کی رپورٹ اچھی نہیں تھی، اور خطرہ ہے کہ بھرتیوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ ہم آج زیادہ کمزور ہیں، ہمیں مشکل میں ڈالنے کے لیے صرف ایک اور جھٹکے کی ضرورت ہوگی۔

ٹرمپ انتظامیہ عالمی معاشی کساد بازاری کے سائے اور بحری تباہی کے درمیان پھنس گئی ۔جہاں آبنائے ہرمز کے بند رہنے کا ہر ایک دن معاشی تکلیف میں کئی گنا اضافہ کر رہا ہے۔چنانچہ، ٹرمپ انتظامیہ کئی محاذوں پر تیل کے بحران کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے: وہ آبنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے ایک پیچیدہ فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے، مارکیٹ میں اقدامات کے ذریعے قیمتوں میں کمی لانے کے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک عوامی مہم بھی شروع کی گئی ہے تاکہ عوام کو یقین دلایا جا سکے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والی تکلیف عارضی ہے۔

 

پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے اندر حساب کتاب سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ خام تیل کا عالمی معیار، برینٹ کروڈ، 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی رکنے سے پیداوار انتہائی سست ہو گئی اور اب وہ اس نازک موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں بڑے پروڈیوسرز اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے کام مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں۔

 

کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات اپنے تیل کے کنویں بند کر رہے ہیں کیونکہ ان کے اسٹوریج ٹینک بھر چکے ہیں۔ ایک بار جب یہ کنویں بند ہو جائیں تو انہیں دوبارہ آسانی سے شروع نہیں کیا جا سکتا، جس سے سپلائی میں ایسا بڑا خلا پیدا ہوگا جو عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔

 

انتظامیہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایاکہ مارکیٹ کی یہ صورتحال اگر برقرار رہی یا مزید خراب ہوئی، تو اس فوجی آپریشن کے پیمانے اور دائرہ کار پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ ایک فوری حل کی اشد ضرورت ہے اور وائٹ ہاؤس اس حقیقت سے آگاہ ہے۔

 

تیل کمپنیوں کے سربراہان، مارکیٹ تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کے مطابق، اس بڑھتے ہوئے بحران کا واحد فوری حل امریکی بحریہ کا اسکارٹ آپریشن ہےجس کا وعدہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بحری اثاثوں کے تحفظ کے لیے کیا تھا۔

 

کچھ ماہرینِ اقتصادیات کساد بازاری کی توقع نہیں کر رہے۔ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں مندی آئی ہے، لیکن اتنی زیادہ نہیں جس سے ظاہر ہو کہ وال سٹریٹ کسی فوری گراوٹ کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ اور اگر آبنائے ہرمز کی بندش جلد ختم ہو جاتی ہے، تو تیل کی قیمتیں ممکنہ طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔