آبنائے ہرمز،تاریخ اور عقیدے سے راہداری تک حیران کن کہانی

یہ13ویں سے 16ویں صدی کے درمیان ایک خوش حال شہرتھا

               
March 11, 2026 · امت ادب

قدیم ہرمز

 

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے زیادہ زیرِ نگرانی سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔تاہم، اس کا نام ایک بہت پرانی دنیا کی بازگشت محسوس کراتا ہے،ایسی دنیا جس میں آتش کدے، تجارتی قافلے اور مسالوں کے بحری بیڑے ہوا کرتے تھے۔

 

چھوٹا سا آبی راستہ ہزاروں سال تک عالمی تجارت کی شہ رگ رہا، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سامان کی نقل و حمل سے ہرمز اور دمشق جیسے شہروں کو بے انتہا مالا مال کیا۔ آج بھی یہ آبی گزر گارہ ’’آبنائے ہرمز‘‘ اتنی ہی اہم ہے۔ اب یہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن اور جغرافیائی کشیدگی کے سب سے بڑے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر جانی جاتی ہے۔

 

ہرمز کی کہانی صرف تیل کے راستوں اور بحری آمدورفت کے بارے میں نہیں۔ اس کا آغاز عقیدے سے ہوا تھا، پھر یہ تجارت سے گزری اور آخر کار نقشوں میں محفوظ ہوگئی۔ ایک زرتشتی الہامی نام فارسی زبان کا حصہ بنا، پھر ایک بندرگاہی شہر کا نام قرار پایا، اور آخر میں ان تنگ پانیوں کا نام بن گیا جو اب عالمی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں۔اس طرح قدیم عقیدے سے جنم لینے والا ایک لفظ زمین کی طاقتور ترین سمندری شاہراہوں میں سے ایک کی پہچان بن گیا۔

 

جدید جغرافیائی سیاست کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کو عالمی توجہ کا مرکز بننے سے بہت پہلے، یہاں ہرمز نامی ایک خوشحال بندرگاہی شہر آباد تھا۔ یہ شہر موجودہ ایران کے جنوبی ساحل پر تھا اور بعد میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر قریبی جزیرے پر منتقل ہو گیا تھا۔قرونِ وسطیٰ کے سیاحوں نے اس شہر کا تذکرہ بڑی حیرت اور ستائش کے ساتھ کیا ہے۔ ہندوستان، فارس اور عرب دنیا کے تاجر یہاں اپنی کشتیاں لنگر انداز کرتے تھے۔ 13ویں اور 16ویں صدی کے درمیان یہ خطے کے امیر ترین تجارتی مراکز میں سے ایک بن چکا تھا۔

 

رفتہ رفتہ اس آبی گزرگاہ کا نام بھی اسی بندرگاہ کے نام پر پڑ گیا۔ دوسرے لفظوں میں، آبنائے کا نام شہر کے نام پر رکھا گیا تھا، نہ کہ اس کے برعکس۔ زیادہ تر مورخین ‘ہرمز کی اصل قدیم فارسی لفظ ہرمزد یا ہورا مزدا (Ahura Mazda) سے جوڑتے ہیں، جو زرتشتی مذہب (پارسیوں کے قدیم مذہب) میں اعلیٰ ترین معبود کا نام ہے۔ قدیم فارسی عقائد میں اہورا مزدا عقل اور روشنی کے مرکزی دیوتا تھے۔

 

صدیوں کے دوران اس نام میں لسانی تبدیلیاں آتی رہیں۔ یورپی ریکارڈ میں ہرمز بدل کر اورمس (Ormus) بن گیا۔ 16ویں صدی کے پرتگالی تاجروں نے اسے اسی طرح لکھا جب ان کا اس جزیرے پر مختصر وقت کے لیے قبضہ تھا۔تو کیا یہ نام فارسی ہے یا زرتشتی؟سادہ ترین جواب یہ ہے کہ: دونوں۔

 

ساتویں صدی میں اسلام کی آمد سے پہلے قدیم فارس کا غالب مذہب زرتشت تھا۔ اسی عقیدے کا ایک مقدس نام مقامات کے ناموں میں ڈھل گیا۔ پھر یہی نام تجارتی نقشوں اور نوآبادیاتی چارٹس کا حصہ بن گئے۔ جس وقت عالمی طاقتوں نے سفارتی پیغامات میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا ذکر شروع کیا، اس وقت تک یہ نام کئی زبانوں اور سلطنتوں کا سفر طے کر چکا تھا۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے نے ہرمز پر ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ سنہری نہریں، سرخ ساحل سمندر اور سحر انگیز نمک کی کانوں کے ساتھ ایران کا جزیرہ ہرمز جنت کے نظارے پیش کرتا ہے۔ اسے ’ماہرین ارضیات کا ڈزنی لینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

 

ایران کے ساحل سے آٹھ کلومیٹر دور خلیج فارس کے نیلے پانی کے بیچوں بیچ جزیرہ ہرمز اوپر سے آنسو جیسا دکھتا ہے۔ یہاں نمک کے ٹیلے ہیں جن میں مختلف پتھر، مٹی اور لوہے سے بھرپور آتش فشاں کی چٹانیں ہیں جو سرخ، زرد اور نارنجی رنگوں میں چمکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں 70 سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں تو 42 مربع کلومیٹر پر محیط اس پُرکشش جزیرے میں ہر انچ اس کے بناوٹ کی کہانی بیان کرتا ہے۔

 

اس جغرافیہ سے یہاں سونے کے رنگ کی نہریں، سرخ ساحل سمندر اور سحر انگیز نمک کی کانیں وجود میں آئی ہیں۔ ہرمز کو درحقیقت رینبو آئی لینڈ (قوس قزح کا جزیرہ) اسی لیے کہا جاتا ہے یہاں غیر معمولی رنگوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

 

ہرمز جزیرے کے ساحل پر ایک سرخ پہاڑ دنیا کا واحد پہاڑ ہے جسے کھایا جا سکتا ہے۔ اس پہاڑ کی سرخ مٹی جسے ’گیلک‘ یاجیلک کہتے ہیں، ہیماٹائٹ کی وجہ سے ایسی نظرآتی ہے۔ یہ محدود مقدار میں برآمد ہوتی ہے۔اسے کاسمیٹکس، روغن اور بعض روایتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ یہ جزیرے کے آتش فشاں پتھروں میں پائے جانے والے آئرن آکسائیڈ کی وجہ سے سرخ ہے۔ بارش ہونے پر یہ سرخ مٹی بڑی مقدار میں ساحل کی طرف بہتی ہے اور ساحل اور اردگرد کا پانی دونوں رنگ جاتے ہیں جس سے خلیج فارس کے نیلے پانیوں سے شدید تضاد پیدا ہوتا ہے۔

 

یہ مٹی نہ صرف صنعتی مقاصد کے لیے قیمتی معدنیات ہے بلکہ مقامی کھانوں میں بھی اس کا کردار اہم ہے۔

 

سرخ پہاڑ کے علاوہ بھی جزیره ہرمز میں دیکھنے کے لیے بہت سے چیزیں ہیں۔جزیرے کے مغرب میں نمک کا ایک شاندار پہاڑ بھی موجود ہے جسے ’نمک کی دیوی‘ کہا جاتا ہے۔ایک کلومیٹر پر پھیلے اس پہاڑ کی تیز دھار دیواریں اور غار نمک کے چمکتے کرسٹل سے بھرے ہوئے ہیں، جو سنگ مرمر کے بنے محل کے بڑے کالموں کی طرح نظر آتے ہیں۔جزیرے کے جنوب مغرب میں ’رینبو آئی لینڈ‘ ہے جہاں کثیر رنگ کی مٹی ہے اور یہاں سرخ، پیلے اور نیلے رنگ کے پہاڑ ہیں۔

 

ہرمزمیں مختلف رنگوں پر مشتمل جیومیٹری کی اشکال کے پتھروں پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہ چمک اٹھتے ہیں۔ادھر پاس ہی میں موجود ’مجسموں کی وادی‘ میں موجود پتھر ہزاروں برس سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بہترین شکل میں بدل چکے ہیں۔