اب سولرپینل پانی سے بھی بجلی پیداکرے گا۔تجربہ کامیاب
درجہ حرارت خاص حدسے بڑھنے پر آرڈوینو کنٹرولر پر مبنی سمارٹ واٹراسپرے کولنگ سسٹم متحرک ہوتا ہے
سولرپینلز
الجزائرمیں سولرپینلزکے لیے جدید سمارٹ واٹراسپرے کولنگ سسٹم تیار کرلیاگیا۔یہ بنجر اور صحرائی علاقوں میں بجلی کی پیداوار میں 29فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔
قاصدی مرباح یونیورسٹی کے تحقیقی گروپ نے یہ کارنامہ انجام دیاہے۔ اس تحقیق کی خاص بات ایک آرڈوینو (Arduino)کنٹرولر پر مبنی نظام ہے جو صرف اس وقت متحرک ہوتا ہے جب پینل کا درجہ حرارت ایک خاص حد سے بڑھ جائے۔ اس طرح صحرائی ماحول میں پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ توانائی کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
الجزائر کے صحرائی شہر ورگلہ (Ouargla)میں اس پر تجربہ کیا گیا، جہاں 390واٹ کے دو ایک جیسے مونو کرسٹلائن ماڈیولز استعمال کیے گئے۔
اس نظام نے پینل کے درجہ حرارت کو 58.6 ڈگری سیلسیس سے کم کر کے 36.7 ڈگری کردیا، جس سے بجلی کی پیداوار 272.1واٹ سے بڑھ کر 350.5 واٹ ہو گئی (تقریبا 28.8% اضافہ)۔ تاہم، اس میں پانی اور بجلی کا استعمال بہت زیادہ تھا۔ پانی کا استعمال 63.86لیٹر فی کلو واٹ آور رہا، مسلسل کولنگ میں یہ 391.95لیٹر تھا۔
سمارٹ سسٹم کا پمپ دن میں صرف 75 منٹ چلا، مسلسل کولنگ میں پمپ 450 منٹ تک چلتا رہا۔سمارٹ کولنگ کے سالانہ اخراجات (0.081 ڈالر فی واٹ)مسلسل کولنگ اور بغیر کولنگ والے سسٹمز دونوں سے کم ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلسل کولنگ سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے، لیکن پانی کی قلت اور کم لاگت کے پیش نظر صحرائی علاقوں کے لیے سمارٹ کولنگ سسٹم ہی بہترین انتخاب ہے۔ مستقبل میں ٹیم ہوا کی رفتار، نمی اور ‘فیز چینج مٹیریلز’ (PCM) جیسے متبادل طریقوں پر بھی تحقیق کرے گی۔
یہ نظام اس وقت چلتا ہے جب درجہ حرارت 41.5ڈگری سے اوپر جائے اور 38.5ڈگری سے نیچے آنے پر خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ اس نے بجلی کی پیداوار کو 251 واٹ سے بڑھا کر 337واٹ کر دیا۔