ایران کے عوام امریکہ پر اعتبار کرنے کو تیار کیوں نہیں ؟تاریخ میں جواب موجود
امریکی صدر ٹرمپ کئی بار حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کر چکے ہیں
ایران کے عوام نے امریکی صدر کو مایوس کیا ہے ۔اسرائیل سے مل کرحملہ آورہوتے وقت ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے کہاتھاکہ وہ تہران کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔لیکن اس کے بجائے ایرانی متحدہوگئے۔کیوں کہ انہیں امریکہ پر اعتبار نہیں ۔اس کی وجہ کیا ہے، جواب تاریخ میں موجودہے۔سی آئی اے نے صرف تین دن میں پوراملک تباہ اور نظام کو تہہ وبالاکردیاتھا۔
یہ 1951 کا واقعہ ہے،69سالہ محمد مصدق ایران کے وزیراعظم بنے۔ 40 سال سے برطانوی کمپنیاں ایرانی تیل کے منافع کا 85 فیصد حصہ لے رہی تھیں اور ایرانی غربت میں زندگی گزار رہے تھے۔برطانوی کارپوریشن نے حساب دینے سے بھی انکار کیاتو حکومت نے تیل کو قومی تحویل میں لے لیا اوربرطانوی ریفائنریوں پر ایرانی جھنڈے لہرانے لگے۔عوام نے جشن منایا۔ ٹائم میگزین نے مصدق کومین آف دی ایئرقرار دیا۔
برطانیہ غصے میں تھا کیونکہ اسے اربوں کا نقصان ہو رہا تھا۔وہ ایک جھوٹ لے کر امریکہ کے پاس گئے کہ ایران میں کمیونسٹ آرہے ہیں۔1953 میں سی آئی اے نے اس بہانے آپریشن ایجیکس (Operation Ajax) شروع کیا۔ اس میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس بھی شامل تھی۔
ایک ایجنٹ لاکھوں ڈالر نقد لے کر تہران پہنچا۔ اس نے رشوت دی، ہنگامہ آرائی کے لیے بلوائیوں کو پیسے دیے اور جھوٹ پھیلایا۔پھر ٹینک سڑکوں پر نکل آئے۔فوج نے وزیراعظم گرفتار کر لیا۔
ایران کی جمہوریت 19 دنوں میں دم توڑ گئی۔برسرِ اقتدار مغرب نواز شاہ طاقت ور ہوگیا اورتیل دوبارہ غیر ملکی کمپنیوں کے پاس چلا گیا۔
مصدق 1967 میں نظر بندی کے دوران انتقال کر گئے۔
مزید ایک دہائی گذری اور پھروہ ہوا جس کی سی آئی اے کو توقع نہیں تھی۔ 1979 میں ایرانیوں نے انقلاب برپا کیا اور اسلامی جمہوریہ قائم کی،وہی امریکہ مخالف حکومت جو آج تک موجود ہے۔ اس وقت سے ہر ایرانی رہنما 1953 کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہےکہ امریکی جمہوریت کا اصل مطلب یہی ہے۔
2013 میں سی آئی اے نے اعتراف کیا کہ اس بغاوت کی منصوبہ بندی اس نے ہی کی تھی۔
تہران میں ایک میوزیم ہے جہاں مصدق کا یہ قول درج ہے:اگر ہم اپنے تیل پر خود کنٹرول نہیں رکھ سکتے، تو ہم آزاد نہیں وہ جمہوریت جسے امریکہ نے تیل کے لیے تباہ کیا، وہی امریکہ کی ایسا دشمن بن گئی جسے وہ شکست نہیں دے سکا۔