خلیج کے سوا دوسرے ممالک کا خام تیل پاکستان میں کیوں استعمال نہیں ہوسکتا ؟
ایشیا کی بہت سی ریفائنریز خلیجی میڈیم سورخام تیل کے مطابق بنائی گئی ہیں
خلیج سے خام تیل کی سپلائی میں طویل رکاوٹ ایشیا میں ایندھن کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ ریفائنریز کے لیے ان میڈیم سور (medium-sour) بیرلز کا فوری متبادل تلاش کرنا مشکل ہے جن کے لیے وہ ڈیزائن کی گئی ہیں۔
خلیج فارس کے میڈیم سور خام تیل پر ایشیا کا بہت زیادہ انحصار آبنائے ہرمزمیں رکاوٹوں کے پیش نظر متبادل کو مشکل بنا رہا ہے۔کیوں کہ ایشیا کی بہت سی ریفائنریز خلیجی میڈیم سورخام تیل کے مطابق بنائی گئی ہیں۔ایشیا اپنی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔اس کے علاوہ ،آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں ٹینکرز کی آمد و رفت کو سست کر رہی ہیں۔
امریکی، افریقی یا برازیلی خام تیل کا متبادل لاناسست اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ عمل ہے۔خام تیل کی قلت کی وجہ سے کچھ ایشیائی ریفائنریز نے پہلے ہی اپنی پیداوار میں کمی کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بڑھتی ہوئی رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بنیادی کمزوری کو بے نقاب کر رہی ہیں،وہ کمزوری یہ ہے کہ ایشیا کی بہت سی ریفائنریز خاص طور پر مشرق وسطیٰ سے آنے والے خام تیل کو صاف کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
دہائیوں سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریفائنریز نے اپنے پلانٹس کو سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی برآمد کنندگان کے پیدا کردہ میڈیم اور ہیوی سور (sour) خام تیل کے مطابق ڈھالا ہے۔
اس نظام نے خطے کی سپلائی چین کو تشکیل دیا ہے۔ ایشیا اب اپنی درآمدی خام تیل کا تقریباً 60 فیصد مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی بحری راستوں میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر اس پر بہت زیادہ پڑتا ہے۔ جہاز رانی پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے ٹینکرز کی نقل و حرکت سست ہونے کے باعث، خطے کی ریفائنریز متبادل کارگو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ تاہم، خلیجی تیل کا متبادل تلاش کرنا اتنا آسان نہیں۔
ریفائنریز کو مخصوص مرکبات کے لیے موزوں بنیادوں پر بنایا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اقسام عموماً میڈیم سور ہوتی ہیں، جنہیں بہت سی ایشیائی ریفائنریز مہارت سے صاف کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔متبادل ذرائع اکثر پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ امریکی خام تیل، جیسے کہیسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، ہلکا اور میٹھا (light and sweet) ہوتا ہے، جو مختلف ریفائننگ نتائج پیدا کرتا ہے اور ریفائنری کے آپریشنز میں تبدیلیوں کا متقاضی ہوتا ہے۔
روسی تیل مصنوعات پہلے ہی چین اور بھارت جیسے خریداروں کے لیے مختص ہیں، امریکہ یا مغربی افریقہ سے آنے والی ترسیل کو طویل سفری وقت اور بڑھتے ہوئے مال برداری کے اخراجات کا سامنا ہے۔
جہاں متبادل موجود بھی ہیں، وہاں خلیجی تیل کی جگہ کسی اور تیل کو اسی مقدار میں لانا مشکل ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ برازیل، امریکہ یا مغربی افریقہ سے متبادل کارگو کو ایشیائی خریداروں تک پہنچنے میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ریفائنرز کو آپریٹنگ حالات تبدیل کرنے یا مختلف پیداواری نتائج قبول کرنے پڑ سکتے ہیں۔اس کے نتائج پورے خطے میں پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
کئی ایشیائی ریفائنریز نے اپنی پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے یا ترسیل میں تاخیر کر رہی ہیں کیونکہ خلیج سے خام تیل کے کارگو حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ریفائنری کے ڈیزائن اور دستیاب خام تیل کی اقسام کے درمیان عدم توازن پورے ایشیا میں ایندھن کی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم اسٹریٹجک توانائی کے راستوں میں سے ایک کیوں ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی کل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ اس راہداری سے گزرتا ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ریفائنریز کے لیے ہوتا ہے۔
اگرچہ عالمی تیل کا نظام آخر کار سپلائی کے راستے تبدیل کر سکتا ہے، لیکن یہ عمل نہ تو تیز ہے اور نہ ہموار۔ قلیل مدت میں، ان مخصوص خام تیل کی اقسام میں رکاوٹیں جن کے لیے ایشیائی ریفائنریز بنائی گئی ہیں، سپلائی میں تعطل پیدا کر سکتی ہیں، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا سکتی ہیں اور توانائی کی منڈیوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔