اسلام آباد میں ریڈ الرٹ، شہر میں داخلے کے متعدد راستے بند
کنٹینرز لگا دیئے گئے، کئی علاقوں میں سرچ آپریشن
اسلام آباد میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے گئے ہیں۔ تصویر امت ڈیجٹل
وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ شہر میں داخلے اور باہر جانے والے کئی اہم راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔ گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ شناخت کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔
ریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون جانے کے لیےصرف مارگلہ روڈکھلی رکھی گئی ۔ اس کے علاوہ ایران ایونیو کے تمام داخلی اور خارجی راستے بھی مکمل طور پر بند کر دیے گئے ۔
اسی طرح چاند تارہ فلائی اوور سے سرینگر ہائی وے تک، سرینا چوک کے اطراف اور آبپارہ سے سہروردی روڈ تک دونوں اطراف ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی۔
شہر کے مرکزی تجارتی علاقوں میں بھی پابندیاں دیکھی گئیں۔ رجب طیب اردوان فلائی اوور سے جناح ایونیو، کلثوم پلازہ چوک، سیونتھ ایونیو پل اور فضل حق روڈ کے جیو چوک تک ٹریفک بند کر دی گئی تھی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے راستے بھی متاثر ہوئے ۔ حاجی کیمپ چوک سے اسلام آباد چوک تک سڑک مکمل بند تھی، آئی جے پی روڈ پر گندم گودام سے فقیر ایپی روڈ تک ٹریفک روکی گئی۔
اس کے علاوہ نیسکام سے آئی ٹین جانے والی سروس روڈ بھی بند کی گئی ، آئی ایٹ سے آئی جے پی ڈبل روڈ تک دونوں اطراف ٹریفک معطل رہی۔

اول ڈیم چوک سے کشمیر چوک تک کلب روڈ ایک طرف سے بند تھی۔ پارک روڈ پر شہزاد ٹاؤن سے مشرف چوک تک سنگل سائیڈ ٹریفک چلتی رہی ۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، متبادل راستے اختیار کریں اور اگر سفر ضروری ہو تو اضافی وقت لے کر نکلیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں ممکنہ طورپر سیکیورٹی خدشات کے باعث لگائی گئیں۔راستوں کی بندش کا ایک سبب یومِ القدس کی ریلی بھی تھی۔لیکن اس حوالے سے باضابطہ سرکاری وضاحت نہیں آئی۔
سکیورٹی اداروں کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔