امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمزمیں زیرآب آفت کا سامنا
ایران کایہ ڈرون 24 گھنٹے تک بہت خاموشی سے پانی کے اندر رہ سکتا ہے
امریکہ ہرمز کا تنگ راستہ طاقت سے نہیں کھول سکتاکیونکہ جغرافیائی طور پر یہ علاقہ مشکل ہے۔ راستہ بہت تنگ ہے، اور ایران جو ہتھیار استعمال کر سکتا ہے وہ سستے اور آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں۔ ایران کا اژدہا (Azhdar)زیرآب ڈرون 24 گھنٹے تک بہت خاموشی سے پانی میںرہنے کی صلاحیت رکھتاہے جس کی وجہ سے اسے پکڑنا مشکل ہے۔اس کی مدد سے ایران ہرمز کے تنگ راستے کو بند رکھ سکتا ہے۔ اس کی خصوصیات میں 96 گھنٹے تک پانی میں رہنے کی صلاحیت، کم آواز اور مشکل سے پکڑا جانا شامل ہے۔ یہ ایران کی غیر متناسب جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بجلی سے چلنے والے اس اسٹیلتھ انڈر واٹر ڈرون (UUV) نے عالمی بحری کمانڈز میں تزویراتی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی تقریباً خاموش لیتھیم بیٹری پروپلشن، طویل کام کرنے کی صلاحیت، اور کم لاگت آبنائے ہرمز جیسے اہم مقامات پر سمندری سیکیورٹی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں کم قیمت والے خودکار نظام بھی عالمی جہاز رانی کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔
اژدہا انڈر واٹر وہیکل بحری جنگ میں ایک وسیع تر تکنیکی تبدیلی ہےخا،موش الیکٹرک پروپلشن، ہدف بنانے والے خود مختار الگورتھم، اورغول کی شکل میں حملے ان بڑے بحری بیڑوں کے روایتی غلبے کو ختم کرنا شروع کر رہے ہیں جو تاریخی طور پر تنگ سمندری راستوں کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔
اژدہا کی طاقت کا مرکز اسٹیلتھ اور طویل برداشت ہے۔لیتھیم بیٹری سسٹم اسے زیرِ آب انتہائی خاموشی سے کام کرنے کے قابل بناتا ہے، جس سے اس کی آوازاتنی کم ہو جاتی ہے کہ روایتی سونار سسٹم کے لیے، خاص طور پر کم گہرے پانیوں میں، اسے تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
18 سے 25 ناٹس کی رفتار کے ساتھ، یہ ڈرون اسٹیلتھ نقل وحرکت اور جنگی حرکات کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے،اس طرح یہ نگرانی اور حملے کے مشن دونوں انجام دے سکتا ہے۔یہ مسلسل چار دن تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ آبنائے ہرمز جیسے مقام پر ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ یہ انسانی نگرانی کے بغیر طویل عرصے تک اہداف کی نگرانی اور ان کا پیچھا کر سکتا ہے۔
600 کلومیٹر سے زیادہ کی آپریشنل رینج کے ساتھ، اژدہاخلیج فارس کے تنگ پانیوں میں خاموشی سے گھوم سکتا ہے،اس کی یہ بے آواز سیاحت بین الاقوامی بحری اتحادوں کی دفاعی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔
آبنائے ہرمز جیسے تنگ راستے میں اژدہاجیسے اسٹیلتھ ڈرونز کا استعمال خطرے کے تصور کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے، کیونکہ چھوٹے خودکار نظام بھی تجارتی اور فوجی جہازوں پر حملوں کے ذریعے جہاز رانی کے راستوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے ان ڈرونز کی ممکنہ تعیناتی ایک ایسی حکمت عملی کا اشارہ ہے جس کا مقصد ان جغرافیائی مقامات کا فائدہ اٹھانا ہے جہاں بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے اور جہاں بڑے بیڑے بکھر کر اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔
تزویراتی حوالے سے ایسی تعیناتی کی بدولت یہ نسبتاً سستے نظام ان بحری بیڑوں کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں جو ٹیکنالوجی میں ان سے کہیں زیادہ برتر اور مہنگے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹ توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
بحری کمانڈروں کو اب سطحِ سمندر اور فضا کے ساتھ ساتھ زیرِ آب ان پوشیدہ خطرات کی نگرانی بھی کرنی ہوگی جو روایتی نظاموں کی گرفت میں آسانی سے نہیں آتے۔
اژدہاجیسے سسٹمز کا مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جھنڈکی صورت میںآپریشنزکی طرف ارتقاء بحری جنگ کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی سے متعدد ڈرونز کو بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ایک ایسا حملہ آور نیٹ ورک بنتا ہے جسے روکنا روایتی بحری دفاعی نظاموں کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
یہ دفاعی سینسرز کو مفلوج کر کے دشمن کو ایک ساتھ کئی سمتوں سے جواب دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔خود مختار نیویگیشن الگورتھم ان سسٹمز کو گشت کرنے، اہداف تلاش کرنے اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اجازت دیتے ہیں۔ زیرِ آب ڈرونز میں مصنوعی ذہانت ریموٹ کنٹرول کے بغیر پیچیدہ مشن انجام دینے کے قابل بناتا ہے، جو خاص طور پر ان مقامات پر مفید ہے جہاں الیکٹرانک ذرائع سے مواصلات میں خلل ڈالا گیا ہو۔
2028 تک 250 سے 350 کلوگرام وزن تک چھوٹے ڈرونز زیادہ توانائی ذخیرہ اور 45 سے 50 ناٹس رفتار حاصل کر سکتے ہیں، اس طرح جنگی جہازوں اور آبدوزوں کو روکنا آسان ہو جائے گا۔زیادہ توانائی کا مطلب ہے کہ یہ ڈرونز طویل فاصلے تک بغیر کسی مدد کے کام کر سکیں گے۔
مستقبل کے انڈر واٹر ڈرونز 50 کلوگرام وزنی وار ہیڈز سے مسلح بھی ہو سکیں گے۔ اگرچہ یہ روایتی ٹارپیڈو سے چھوٹے ہیں، لیکن بڑے بحری جہازوں کے ڈھانچے، پروپلشن سسٹم یا اہم آلات کو تباہ کر کے انہیں ناکارہ بنانےکے لیے کافی ہیں۔اس حکمت عملی کا مقصد جہاز کو مکمل ڈبونے کے بجائے اسے بے کارکرنا ہے، یہ بھی ایک غیر متناسب جنگی حربہ ہے۔
اژدہا جیسے اسٹیلتھ ڈرونز اس بات کی نشاندہی ہے کہ بڑے بحری بیڑے شاید آبنائے ہرمز جیسے تنگ راستوں پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔ ماضی میں غلبہ طاقتور جہازوں اور آبدوزوں پر منحصر تھا، لیکن اب سستے اور خود مختار سسٹمز نے ایک ایسا خطرہ پیدا کر دیا ہے جسے روایتی طریقوں سے ختم کرنا مشکل ہے۔
اب جنگی حکمت عملی بڑے جہازوں سے لڑنے کے بجائے بے شمار چھوٹے، مشکل سے پکڑے جانے والے خطرات سے بچنے کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔عالمی بحری طاقتوں کے لیے، جو ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر سمندروں پر راج کرنے کی عادی ہیں، خود مختار زیرِ آب جنگ ایک بالکل نیا چیلنج ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی پختہ ہو گی، روایتی بحری طاقت اور خود مختار سسٹمز کے درمیان توازن ہی دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں کے مستقبل کی سیکیورٹی کا تعین کرے گا۔