ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے امریکی فوج روانہ
یہ کمک ایک ا یمفیبیئس ریڈی گروپ (اے آرجی) اور اس کےمیرین یونٹ سے آئے گی
یوایس ایس ٹریپولی
ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے بڑی تعدادمیں امریکی فوج آبنائے ہرمزکی طرف روانہ ہوگئی۔امریکی محکمہ دفاع نے خلیج ہرمز میں اضافی میرینز اور جنگی جہاز بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔سی بی ایس نیوز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی میرینز اور جنگی جہازوں کی تعیناتی متوقع ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمک ایک ا یمفیبیئس ریڈی گروپ (اے آرجی) اور اس کےمیرین یونٹ سے آئے گی۔ ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ اس گروپ کی قیادت جاپان میں موجو د یو ایس ایس ٹریپولی (USS Tripoli) کرے گا، جو ایک ایمفیبیئس(پانی اور زمین پر کارروائی کرنے والا) حملہ آور بحری جہاز ہے۔
بحری جریدے ’’نیول نیوز‘‘ کے مطابق ،ایک اے آر جی کا بنیادی مقصد ساحلی اور سمندری علاقوں میں میرینز کو اتارنا اور ان کی مدد کرنا ہوتا ہے۔گروپ کے فضائی بیڑے میں 30 سے زائد طیارے اور سمندری لینڈنگ کرافٹ شامل ہوتے ہیں جو میرینز کی نقل و حمل کو ممکن بناتے ہیں۔ میرینز کی مدد کے لیے استعمال ہونے والے ان طیاروں میں ایف 35 کے علاوہ ایم وی 22بی ٹلٹ روٹرٹرانسپورٹ طیارے،اے ایچ ون زیڈ وائپراٹیک ہیلی کاپٹرز، یوایچ ون وائی وینم اٹیک اینڈ یوٹیلٹی ہیلی کاپٹرز، ایم ایچ 60ایس یوٹیلیٹی ،سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹرز اور چینوک 53 اسٹالین ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹرزشامل ہیں۔
یو ایس ایس ٹرپولی کی قیادت میں اس یونٹ میں عام طور پر تقریباً5ہزارسپاہ اور میرینز شامل ہوتے ہیں جو مختلف جنگی جہازوں پر پھیلے ہوتے ہیں۔
31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ ، جو 3 بحری جہازوں پر مشتمل ہے اور جس میں تقریباً 2200 اہلکار شامل ہیں، کو مشرق وسطیٰ جانے کے احکامات ملے ہیں۔ یہ یونٹ مستقل طور پر جاپان میں تعینات رہتا ہے اور عام طور پر ہند،بحرالکاہل کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے۔
اس فورس کی تعیناتی کا مطلب امریکی فوجی کمانڈروں کو مختلف صلاحیتیں فراہم کرناہے جن میں زمینی، بحری اور فضائی آپریشنز شامل ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر مدد لی جا سکتی ہے۔
امریکی ٹی وی اے بی سی نیوز کے مطابق اس یونٹ میں ایف-35 لڑاکا طیاروں اور ایم وی-22 سپرے طیاروں کا سکواڈرن بھی شامل ہے۔
سیٹلائٹ تصاویرمیں یو ایس ایس ٹریپولی کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے، تاہم میرینز، ان کے جہازوں اور آلات کی اس تعیناتی کے مقاصد تاحال واضح نہیں ۔ امریکی فوجیوں کو اتارنے کی اس قدر صلاحیت رکھنے والے اے آر جی کی آمد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ کسی دشمن علاقے پر قبضہ کرنے یا اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔
امریکی بحریہ کے ذرائع کا کہناہے کہ اس مشن کے ممکنہ اہداف میں آبنائے ہرمز کے بیرونی ایرانی جزائر پر میرینز کی تعیناتی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ جزائر ایک ایسے مقام کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں جہاں سے ایران کی جانب سے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا تجارتی جہازوں کا راستہ روکنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
امریکی فوج کی اس نقل و حرکت کی اطلاع سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے دی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمک کی درخواست امریکی سینٹرل کمانڈ (امریکی فوج کا وہ حصہ جو مشرقِ وسطیٰ کا ذمہ دار ہے) کی جانب سے کی گئی تھی اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس کی منظوری دی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ اور جنوبی کوریا کے خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ جنوبی کوریا میں نصب میزائل ڈیفنس سسٹم کے کچھ حصوں کو بھی مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کو اگلے ایک ہفتے کے دوران بہت سخت ہٹ کیا جائے گا، اور مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ تب ختم ہوگی جب میں اسے اپنی ہڈیوں میں محسوس کروں گا۔وز یردفاع ہیگستھ نے بھی کہا کہ امریکی فوج اپنے دشمنوں کے لیے کوئی رحم نہیں دکھائے گی۔